BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 September, 2005, 11:11 GMT 16:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: ہر ماہ دس ہزار بھارتی ویزے

 ویزا
ہر مہینہ پچاس ہزار پاکستانی بھارت کے ویزے کے لیے درخواست دیتے ہیں
اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن میں ہرماہ پچاس ہزار پاکستانی بھارتی ویزے کے لیے درخواست دیتے ہیں جو میں سےہر مہینے دس ہزار پاکستانیوں کو بھارتی ویزا دیا جاتا ہے۔

یہ بات پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے انڈین مرچنسٹس چیمبر کے صدر راجیش گوردھن کپاڈیا نے لاہور چیمبر آف کامرس اور انڈسٹریز کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بھارت کے ہائی کمشنر نے انہیں بتایا کہ جب وہ پاکستان میں تعینات ہو کر آئے تھے تو اس وقت ہرماہ تیس بھارتی ویزے جاری کیے جاتے تھے لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر دس ہزار ہوگئی ہے۔

اس موقع پر لاہور چیمبر آف کامرس اور انڈسٹریز کے نائب صدر محمد ارشد نے کہا کہ اس بات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہر مہینہ پچاس ہزار پاکستانی بھارت کے ویزے کے لیے درخواست دیتے ہیں اور پانچ میں سے صرف ایک درخواست گزار کو ویزہ دیا جاتا ہے۔

بھارت کے مرچنٹس چیمبر کے صدر نے کہا کہ ستمبر کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کا ایک اجلاس ہورہا ہے جس میں یہ بات زیر غور آئے گی کہ دونوں ملک کاروباری لوگوں کو ایک یا چند شہروں کا مخصوص ویزہ دینے کے بجائے پورے ملک کا ویزہ جاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجویز بھارت کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔

راجیش کپاڈیا نے کہا کہ اس اجلاس میں یہ تجویز بھی زیر غور آئے گی کہ دونوں ملک اپنے دو دو بنکوں کی شاخیں اپنے ہاں کھولنے کی اجازت دیں۔ مرچنٹس چیمبر کے صدر نے لاہور کے صنعتکاروں اور تاجروں سے کہا کہ دونوں ملکوں کو اپنے تجارتی تعلقات کو بہتر بنانا چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسلام آباد ، کراچی اور موہن جودوڑو کا دورہ کر کے آئے ہیں اور انہیں یہاں پر ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ اپنے گھر میں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کاروباری لوگ بھی انہیں جذبات کے ساتھ آگے بڑھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کاروبار کے فروغ کے بہت مواقع ہیں اور اگر وہ ایسا کریں تو مل کر دنیا کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بڑھے گی تو بھارت کے لوگوں میں بھی پاکستانی اشیاء مقبول ہوں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد