BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جان بخشی ہو جائے تو اچھا ہے: نٹور

منجیت سنگھ
منجیت سنگھ کو پاکستان میں دہشت گردی کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی ہے
وزیرخارجہ نٹور سنگھ نے پاکستانی ہائی کمشنر عزیز احمد خان سے درخواست کی ہے کہ اگر انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر منجیت سنگھ کی جان بخشی ہو جائے تو بہتر ہوگا۔

حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ اس معاملے میں کوئی مثبت حل نکل آئے گا۔

نٹور سنگھ نے مسٹر عزیز سے اپنے دفتر میں ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بعد انہوں نے تو کچھ نہیں کہا لیکن وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے بتایا کہ ’وزیرخارجہ نٹور سنگھ نے پاکستانی ہائی کمشنر سے اس معاملے میں مفصل بات چیت کی ہے۔ انہوں نے درخواست کی ہے کہ یہ ایک انسانی معاملہ ہے اور ہندوستانی عوام کے جذبات بھی اس سے وابستہ ہیں اس لیے اسکی جان بخش دی جائے۔ ہم پرامید ہیں کہ پورامعاملہ مثبت انداز سے آگے بڑھے گا‘۔

پاکستانی ہائی کمشنر عزیز احمد خان نے اپنی ملاقات کی تفصیل بتاتے ہوئے مسٹر سرنا کے بیان کی توثیق کی۔ ان کا کہنا تھا ’سرب جیت سنگھ کو سزا قانون کے تحت ہوئی ہے۔ لیکن چونکہ نٹور سنگھ نے درخواست کی ہے کہ پاکستان انسانیت کی بنیاد پر نظر ثانی کرے تو میں ان کے پیغام کو پاکستانی حکومت تک پہنچا دوں گا‘۔

منجیت امرتسر کا رہنے والا ہے اور ہندوستان میں اس کا نام سرب جیت بتایا گیا ہے۔ وہ کئی بم دھماکوں کے جرم میں گزشتہ پندرہ برس سے پاکستان کی جیل میں ہے۔ اسے دہشگردی کے جرم میں دی جانے والی سزائے موت کی گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے توثیق کی تھی۔

منجیت کی بیوی نے بھی پاکستان سے رحم کی اپیل کی ہے۔ منجیت کی دوبیٹیاں ہیں۔ اس کی ایک بیٹی نے انہیں دیکھا بھی نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد