منجیت کے لیے حکومت پر دباؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کانگریس کے بھارتی اراکین پارلیمان کو یقین دلایا ہے کہ وہ منجیت سنگھ کی موت کی سزا رکوانے کے لیے پاکستان کے صدر پرویز مشرف سے بات کریں گے۔ ہندوستان نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ اسلام آباد میں اس کے سفارت کار کو سرب جیت سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ منجیت امرتسر کا رہنے والا ہے اور یہاں اس کا نام سرب جیت بتایا گیا ہے۔ وہ کئی بم دھماکوں کے جرم میں گزشتہ پندرہ برس سے پاکستان کی جیل میں ہے۔ اسے گزشتہ ہفتے پاکستان کی سپریم کورٹ نے موت کی سزا کی توثیق کی تھی۔ سربجیت سنگھ کی بہن دلبیر کور نے بھی اکالی ارکان پارلیمان کے ساتھ وزیر خارجہ نٹور سنگھ سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بعددلبیر کور نے بتایا ’نٹور سنگھ نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ وہ اس معاملے میں پاکستان کے صدر سے بات چیت کریں گے۔ مجھے پورا بھروسہ ہے اور اب میں کافی پر امید ہوں-‘ پنجاب کے اراکین نے حکومت سے اپیل کی ہے
سرب جیت کی دو بیٹیاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد بالکل بے قصور ہیں۔ ان میں سے ایک بیٹی نے سرب جیت کو دیکھا بھی نہیں ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے سرب جیت یا منجیت سنگھ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ’ راء‘ کا ایجنٹ ہے اور اس نے تقریباً پندرہ برس قبل پاکستان میں کئی بم دھماکے کیے تھے۔ حکام کے مطابق اسے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ان دھماکوں کے بعد ہندوستان فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ کل ہندوستان کی پارلیمان میں بھی سنگھ کو موت کی سزا سنائے جانے پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ ارکان کا کہنا تھا کہ یہ شناخت کی غلطی کا معاملہ ہے۔ ہندوستان نے ابھی تک یہ تسلیم نہیں کیا ہے کہ سرب جیت ’ راء‘ کا ایجنٹ ہے اور نہ ہی اس کی تردید کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں ہندوستان کے ہائی کمیشنر نے پاکستان کے حکام سے بات چیت کی ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ وزیر اعظم بذات خود یا وزیر خارجہ نٹور سنگھ اس سلسلے میں اپنے پاکستانی ہم منصب سے بات کرنے والے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||