پھانسی پر خودکشی کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاسوسی کے الزام میں سزائے موت پانے والے ایک بھارتی شہری کے خاندان نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے رشتہ دار کو پاکستان میں پھانسی دی گئی تو وہ خودکشی کر لیں گے۔ سربجیت سنگھ کے رشتہ داروں نے انہیں معصوم بتاتے ہوئے ان کی جان بخشی کی بھی اپیل کی ہے۔ سربجیت کی بہن دلبیر کور کے مطابق ان کےگھر والوں نے بھارتی صدر عبدالکلام، وزیرِاعظم منموہن سنگھ اور پاکستانی صدر پرویز مشرف کو خط لکھے ہیں اور ان سے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی ہے۔ ایک نجی بھارتی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’ ہم نے بھارتی صدر، وزیرِاعظم اور تمام بھارتی قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ میرے معصوم بھائی کی زندگی بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں‘۔ صدر مشرف سے کی گئی اپیل میں دلبیر کور نے اپنے بھائی کو پاک بھارت کشیدگی کا شکار قرار دیا ہے۔ دلبیر کور کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ انہیں ایک پاکستانی وکیل رانا عبدالحامد کی کال موصول ہوئی ہے جس میں انہوں نے سربجیت کو سزائے موت سنائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ سربجیت کی نوجوان بیٹی سواپنا دیپ نے کہا کہ اگر ان کے باپ کو پھانسی دی گئی تو وہ اور ان کا خاندان خودکشی کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم تمام امیدیں کھو چکے ہیں اور اگر انہیں قتل کیا گیا تو ہم اپنے آپ کو مار لیں گے‘۔ سربجیت سنگھ شمالی بھارت کے سرحدی گاؤں بیکھی ونڈ کے رہائشی ہیں اور اگست 1990 سے لاپتہ ہیں۔ ان کی بہن کا کہنا ہے کہ وہ غلطی سے سرحد پار کر گئے تھے۔ دلبیر کور کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سربجیت کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ سمجھا گیا اور انہیں لاہور میں بم دھماکہ کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ ایک پاکستانی عدالت نے انہیں ’را‘ کا ایجنٹ منجیت سنگھ گردانتے ہوئے موت کی سزا سنائی جسے گزشتہ ہفتے پاکستانی سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے۔ دلبیر کور نے کہا کہ ’ ہمارے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے۔ وہ تمام کاغذات جن سے ثابت ہوتا ہے کہ گرفتار شدہ شخص کا نام سربجیت سنگھ ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تمام ریکارڈ پاکستانی حکومت کو بھیجا ہے اور پھر کیوں اسے منجیت سنگھ سمجھ کر سزا دی جا رہی ہے۔ دلبیر کا کہنا تھا کہ ’ اگر سربجیت کو رہا نہ کیا گیا تو ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا کہ ہم اس کی پھانسی والے دن خودکشی کر لیں۔ ہم اس کی آزادی کی جنگ میں سب کچھ لگا سکتے ہیں اور میں حقوقِ انسانی کی تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ بھی اس معاملے پر غور کریں‘۔ بھارتی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ انہیں ابھی تک اس معاملے کی مکل تفصیلات نہیں ملی ہیں اور ان تفصیلات کے ملنے کے بعد ہی کسی قسم کی کارروائی کا فیصلہ کیا جا سکے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||