اپیل مسترد، قاتل کو پھانسی ہوگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ میں قتل اور آبروریزی کے مجرم دھننجے کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اس کی پھانسی کی سزا یقینی ہو گئی ہے۔ دھننجے کو 14 اگست کی صبح کلکتہ کی ایک جیل میں پھانسی دی جاۓ گی۔ پھانسی کی ساری تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ جلاد ناٹاملک نےریت کی بوریوں کے ساتھ پھانسی دینےکی کئی بار ریہرسل بھی کی ہے۔ دھننجے نے صدر عبدالکلام سے رحم کی اپیل کی تھی جو انھوں نےرد کر دی۔ اس نے صدر کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں اپیل کی لیکن سپریم کورٹ نے کہا کہ صدر کے فیصلے کا جائزہ لینے کا اسے محدود اختیار ہے اس لیے اس نے دھننجے کی درخواست مسترد دی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ صدر کے فیصلے میں کسی غلطی کا پتہ نہیں چلتا۔ یہ واقعہ 1990 کا ہے۔ دھننجے نے ایک کمسن لڑ کی کی آبروریزی کی اور اسے قتل کر دیا۔ یہ مقدمہ مختلف عدالتوں سے گزرتا ہوا 1994 میں سپریم کورٹ میں پہنچا اور ہر عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی۔ مغربی بنگال کے ریاستی گورنر نےاس کی رحم کی اپیل مستردکردی۔ ریاستی حکومت نے درخواست مسترد ہونے کی اطلاع ہائی کورٹ کو نہیں دی جس کے سبب اس کی پھانسی پر عمل نہیں ہو سکا اور وہ تقریباً آٹھ برس تک جیل میں رہا۔ گزشتہ سال اس نے ایک بار پھر ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ لیکن اس بار بھی اس کی درخواست مسترد ہو گئی۔ دھننجے کے بوڑھے ماں باپ نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر ان کے بیٹے کو پھانسی دی گئی تو وہ خودکشی کر لیں گے۔ ان کے گھر پر بڑی تعداد میں پولیس تعینات کی گئی ہے۔ ہندوستان میں موت کی سزا بہت کم دی جاتی ہے۔ دھننجے کو 14 اگست کی صبح ساڈھے چار بجے موت کے تختے پر لٹکایا جاۓ گا۔ اسی دن اس کی سالگرہ بھی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||