BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 June, 2004, 16:49 GMT 21:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سزائے موت: خاندانی پیشہ
سزائے موت: خاندانی پیشہ
نٹا ملک سزائے موت کے ہامی ہیں
نٹا ملک کے لیے سزائے موت ان کی خاندنی تاریخ کا حصہ ہے۔ ان کے والد نے پانچ سو سے زیادہ لوگوں کو، جن میں سے زیادہ تر برطانوی راج کے خلاف لڑ رہے بنگالی انقلابی تھے، پھانسی لگائی تھی۔ ان کے دادا نے بھی بے شمار مجرموں کو پھانسی دی تھی۔

کلکتہ میں رہ رہے نٹا ملک اپنی آخری پھانسی کی تیاری میں مصروف ہیں، جس کے بعد ان کا پوتا یہ کام آگے بڑھائے گا۔

ملک سزائے موت کے ہامیوں میں ہیں اور انہیں ہر پھانسی کے لیے پانچ ہزار روپیہ (ایک سو دس ڈولرز) ملتے ہیں۔ اپنی آخری پھانسی کے لیے انہیں دس ہزار روپیہ ملنے والے ہیں۔

دھننجئے چٹرجی پرایک سولہ سالہ لڑکی کی عصمت دری کر کے اسے قتل کرنے کا الزام ہے ۔ کئی انسانی حقوق کے لیے کام کر رہے ادارے ان کی پھانسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

نٹا ملک کے خیال میں چٹرجی کے لیے پھانسی بھی کم سزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ لڑکی ان احتجاج کرنے والوں کی اپنی بیٹی ہوتی، تو کیا وہ تب بھی چٹرجی کو پھانسی نہ دینے کی سفارش کرتے؟

نٹا ملک کی آخری پھانسی میں ان کی مدد ان کے پوتے پربھات کریں گے۔ پچھلے ہفتے بھر سے دادا اور پوتا پھانسی کی مشق کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پندرہ سال بعد یہ ان کی پہلی پھانسی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ سب ٹھیک ہو جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں کیونکہ جن لوگوں کو انہوں نے پھانسی دی وہ سب مجرم تھے، انقلابی یا مجاہد آزادی نہیں۔

نٹا ملک کے والد شولال ملک نے سوریا سین جیسے، بھارت کی آزادی کے لیے لڑ رہے کئی انقلابیوں کو پھانسی دی تھی۔

نٹا ملک نے بتایا کہ کبھی کبھی وہ اپنے خوابوں میں ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جنہیں انہوں نے پھانسی دی تھی۔

ان کے مطابق پھانسی دینے کا فیصلہ حکومت کرتی ہے۔ وہ خود صرف اپنا کام کرتے ہیں۔

آج کل بھارتی عدالتیں عام طور پر سزائے موت دینے سے اجتناب کرتی ہیں۔ آج سے پہلے سزائے موت اندرا گاندھی کے ان دو سکھ محافظوں کو دی گئی تھی جنہوں نے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

نٹا ملک کو میڈیا کی ان کی زندگی میں دلچسپی پسند نہیں، مگر ان کے گھر والے ان کی ناموری سے کافی خوش ہیں۔

نٹا ملک بنگالی فلموں میں بھی کام کر چکے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد