کھیل کھیل میں پھانسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں 14 اگست کو دھننجے چیٹرجی کو پھانسی دیئے جانے کے بعد بہت سے بچوں نے اس کی نقل کرنی شروع کر دی ہے ۔ اس خطرناک کھیل میں تین بچوں کی جان چلی گئی اور ایسے واقعات میں کچھ بچے زخمی بھی ہوئےہیں ۔ یاد رہے کے ایک اسکولی طالبہ کی آبرو ریزی اور بعد میں اس کے قتل کے جرم میں دھننجے چیٹرجی نام کے ایک شخص کو کلکتہ کی علی پور جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ میڈیا نےاس پھانسی کو بہت زیادہ کوریج دی تھی جس کی وجہ سے بچوں میں بھی اس میں دلچسپی پیداہو گئی تھی۔ ممبئی کے ایک 14 سال کے بچے کو پھانسی کا پھندہ اتنا دلکش لگا کہ اس نے چھت کے پنکھے سے خود کو لٹکا دیا۔ پولیس کے ایک اہلکار نے کہا کہ اس بچے کے والدین نے بتایا کہ وہ بچہ بہت عقل مند تھا اور دھننجے کی پھانسی کے بارے میں بہت سوال کیا کرتا تھا کہ اسے کس طرح پھانسی دی گئی۔ بھارت کے ہندو اخبار نے لکھا ہے کہ مغربی بنگال میں بھی ایک 14 سال کے بچے نے اتوار کو پھانسی کی نقل کی اور اپنی جان دے بیٹھا۔ ایک اور واقعہ میں گزشتہ ہفتے مغربی بنگال میں ہی ایک بچی اس وقت ہلاک ہو گئی جب وہ اپنے چھوٹے بھائی کو یہ دکھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ دھننجے چیٹرجی کو پھانسی کیسے دی گئی۔ لڑکی کے والدین نے کہا کہ انہیں اپنی بیٹی کو گھر پر اکیلے نہیں چھوڑنا چاہئے تھا خاص طور پر ایسے میں جب وہ دھننجے کی پھانسی کے بارے میں بہت سوال کرتی تھی۔ ایسے ہی کچھ اور بچوں نے بھی پھانسی کی نقل کرنے کی کوشش کی لیکن خوش قسمتی سے بچ گئے۔ مغربی بنگال میں ہی 12 سال کے شیخ اسلم کے دوستوں نے اس کو پیڑ پر پھانسی پر لٹکایا تھا لیکن وہ بچ گیا اس کے دوستوں میں ایک جلاد ، دوسرا ڈاکٹر اور جیل وارڈن بنے ہوئے تھے اور اسلم دھننجے بنا ہوا تھا۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو میڈیا میں زیادہ دکھانے سے بچوں پر منفی اثرات پڑتے ہیں کیونکہ بچے اس طرح کے واقعات میں بہت دلچسپی لیتے ہیں ۔ بہت سے ٹی وی چینلوں نے پھانی کی تصویریں بنا کر دکھائی تھیں جس سے بچوں کو نقل کرنے کا مسالہ مل گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||