بھارت میں برسوں بعد موت کی سزا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے شہر کلکتہ میں تقریباً دس سال بعد قتل اور آبروریزی کے ایک مجرم دھننجائے چٹٹرجی کو سنیچر کی صبح پھانسی پر لٹکا دیاگیا۔ دھننجائے چٹٹرجی کو تیرہ سالہ لڑکی کے ساتھ زنا کر کے قتل کرنے کا الزام ثابت ہونے کے بعد موت کی سزا سنائی گی تھی۔ کلکتہ میں جیل کے باہر انسانی حقوق کی تنظیموں نے رات بھر موم بتیاں روشن کر کے موت کی سزا دیے جانے کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر جیل کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ انسانی حقوق کا دفاع کرنیوالی ایک تنظیم نےکلکتہ ہائی کورٹ میں ایک رٹ پیٹیشن کے ذریعے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ساری مہذب دنیا میں پھانسی کی سزا ختم کی جا چکی ہے لہذا اس کو بھارت میں بھی ختم کر دیا جائے۔ عدالت نے رٹ پیٹیشن خارج کر دی جس کے بعد دھننجائے چٹٹر جی کو موت کی سزا دی گئی۔ اس سے پہلے صدر عبدالکلام نے دھننجائے چٹٹرجی کی رحم کی اپیل رد کر دی تھی۔ مجرم دھننجائے چٹٹرجی کے بھائی نے صدر کی طرف سے پھانسی کی سزا کو برقرار رکھنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے درخواست اس بنا پر مسترد کر دی تھی کہ اس کو صدر کے کسی فیصلے کا جائزہ لینے کا محدود اختیار ہے۔ ملک کی اعلی ترین عدالت نے یہ بھی کہا کہ پھانسی کی سزا کو بحال رکھنے کے صدر کے فیصلے میں بظاہر کوئی غلطی نظر نہیں آتی۔ یہ واقعہ 1990 کا ہے۔ دھننجائے چٹٹرجی نے ایک کمسن لڑ کی کی آبروریزی کی اور اسے قتل کر دیا۔ یہ مقدمہ مختلف عدالتوں سے گزرتا ہوا 1994 میں سپریم کورٹ میں پہنچا اور عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی۔ مغربی بنگال کے ریاستی گورنر نےاس کی رحم کی اپیل مسترد کردی۔ ریاستی حکومت نے درخواست مسترد ہونے کی اطلاع ہائی کورٹ کو نہیں دی جس کے سبب اس کی پھانسی پر عمل نہیں ہو سکا اور وہ تقریباً آٹھ برس تک جیل میں رہا۔ گزشتہ سال اس نے ایک بار پھر ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ لیکن اس بار بھی اس کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ دھننجائے چٹٹرجی کے بوڑھے ماں باپ نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر ان کے بیٹے کو پھانسی دی گئی تو وہ خودکشی کر لیں گے۔ ان کے گھر پر بڑی تعداد میں پولیس تعینات کی گئی ہے۔ ہندوستان میں موت کی سزا بہت کم دی جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||