’ پھانسی کی سزا جائز ہے‘ عدالت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کلکتہ ہائی کورٹ نے پھانسی کی سزا کو ریاست میں ختم کرنے سے متعلق انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست مسترد کر دی ہے جس میں ملک میں پھانسی کی سزا کو ختم کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد قتل اور آبروریزی کے جرم میں پھانسی کی سزا کی پانے والے مجرم دھننجائے چٹٹرجی کوپھانسی دیئے جانے میں آخری روکاٹ بھی دور ہو گئی ہے۔ دھننجائے چٹٹرجی کو 14 اگست کی صبح کلکتہ کی ایک جیل میں پھانسی دی جائے گی۔ پھانسی کی ساری تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ جلاد ناٹاملک نےریت کی بوریوں کے ساتھ پھانسی دینےکی کئی بار ریہرسل بھی کی ہے۔ دھننجائے چٹٹرجی کو تیرہ سالہ لڑکی کے ساتھ زنا کر کے قتل کرنے کا الزام ہے۔ انسانی حقوق کی ایک محافظ تنظیم نےکلکتہ ہائی کورٹ میں ایک رٹ پیٹیشن کے ذریعے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ساری مہذب دنیا میں پھانسی کی سزا ختم کی جا چکی ہے لہذا اس کو بھارت میں بھی ختم کر دیا جائے۔ عدالت نے رٹ پیٹیشن خارج کر دی۔ اس سے پہلے صدر عبدالکلام نے دھننجائے چٹٹرجی کی رحم کی اپیل رد کر دی تھی۔ مجرم دھننجائے چٹٹرجی کے بھائی نے صدر کی طرف سے پھانسی کی سزا کو برقرار رکھنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے درخواست اس بنا پر مسترد کر دی تھی کہ اس کو صدر کے کسی فیصلے کا جائزہ لینے کا محدود اختیار ہے۔ ملک کی اعلی ترین عدالت نے یہ بھی کہا کہ پھانسی کی سزا کو بحال رکھنے کے صدر کے فیصلے میں بظاہر کوئی غلطی نظر نہیں آتی۔ یہ واقعہ 1990 کا ہے۔ دھننجائے چٹٹرجی نے ایک کمسن لڑ کی کی آبروریزی کی اور اسے قتل کر دیا۔ یہ مقدمہ مختلف عدالتوں سے گزرتا ہوا 1994 میں سپریم کورٹ میں پہنچا اور ہر عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی۔ مغربی بنگال کے ریاستی گورنر نےاس کی رحم کی اپیل مستردکردی۔ ریاستی حکومت نے درخواست مسترد ہونے کی اطلاع ہائی کورٹ کو نہیں دی جس کے سبب اس کی پھانسی پر عمل نہیں ہو سکا اور وہ تقریباً آٹھ برس تک جیل میں رہا۔ گزشتہ سال اس نے ایک بار پھر ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ لیکن اس بار بھی اس کی درخواست مسترد ہو گئی۔ دھننجائے چٹٹرجی کے بوڑھے ماں باپ نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر ان کے بیٹے کو پھانسی دی گئی تو وہ خودکشی کر لیں گے۔ ان کے گھر پر بڑی تعداد میں پولیس تعینات کی گئی ہے۔ ہندوستان میں موت کی سزا بہت کم دی جاتی ہے۔ دھننجائے چٹٹرجی کو 14 اگست کی صبح ساڈھے چار بجے موت کے تختے پر لٹکایا جاۓ گا۔ اسی دن اس کی سالگرہ بھی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||