پاکستانی جان کی قیمت دس لاکھ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کی کرکٹ ایسوسی ایشن نے پاکستانی کھلاڑیوں کی جان کی قیمت دس لاکھ روپئے فی کس لگائی ہے۔ سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر احمد آباد میں ٹیسٹ کھیلنے سے پاکستان کے انکار کے بعد وہاں ایک روزہ میچ رکھا گیا ہے جس کے لیے زبردست حفاظتی انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ لیکن گجرات کےکرکٹ حکام نے ’احتیاط‘ کے طور پر بیس رکنی دستے کے لئے دو کروڑ روپئےکا بیمہ بھی کرایا ہے۔ اب شاید پاکستانی کھلاڑی سکون کے ساتھ احمد آباد میں کھیل سکیں گے۔ یہاں وشاکھاپٹنم میں پولیس کی مہمان نوازی کا انداز بھی نرالہ ہے۔ پورٹ اسٹیڈیم میں میچ سے پہلے کی پریس کانفرنس کے لئے گئے تو سختی سے گیٹ پر ہی روک دیا گیا۔ سوچا کہ شاید پاس کی جانچ پڑتال ہوگی، اور نیا پاس ابھی جاری نہیں ہوا تھا، لہذا اب یہ بڑی موچھوں والا پولیس والا اندر نہیں جانے دیگا۔ جنوبی ہندوستان میں اگر آپ سفر کریں، تو جلدی ہی اشاروں کی زبان سمجھنے لگیں گے کیونکہ یہاں ہندی یا اردو بولنے والے شاذ ونادر ہی نظر آتے ہیں اور زیادہ تر عام لوگوں کی انگریزی ’یس سر، نو سر اور او کے‘ سے آگے نہیں بڑھتی اب وہ چاہے یس سر کہہ رہے ہوں یا نو سر، گردن ایک ہی انداز میں ہلاتے۔ لہذامیں چپ چاپ کھڑا ہو گیا۔ پولیس والے نے اپنے واکی ٹاکی میں تیلگو میں کچھ کہا اور چند ہی لمحوں میں پولیس کی ایک جیپ نمودار ہوگئی۔ پھر اس نے تیلگو میں کچھ کہتے ہوئے جیپ میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔میں نےکہا سامنے ہی تو جانا ہے، صرف سو ڈیڑھ سو گز ہی کی تو بات ہے؟ جواب ملا ’نو سر، ویری ہاٹ، نو واکنگ ڈسٹنس‘ (گرمی بہت ہے، یہ پیدل کا راستہ نہیں)۔ اندر پہنچے تو ایسا لگا کہ کسی کی بارات آرہی ہو۔ میدان کے بیچوں بیچ دو شامیانے لگے ہوئےتھے، جس کے سائے میں دونوں ٹیمیں سورج کی تپش سے بچنے کی کوشش کررہی تھیں۔ لیکن اسٹیڈیم کا تماشا ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ پہلے ہندوستان کی پریس کانفرنس ہونی تھی، جس سے خطاب کرنے نائب کپتان راہول ڈراوڈ آئے۔ فوراً یہ کہا جانے لگا کہ گانگولی کو پریس سے بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جب پاکستان کی پریس کانفرنس کے لئے انضمام کی جگہ یونس خان کو بھیجا گیا، تو بے ساختہ ہی کسی کے منہہ سے نکلا کہ یہ دونوں ملک کبھی نہیں سدھر سکتے۔ جاسوسی کے الزام میں ایک دوسرے کے سفارتکار نکالنے کی بات ہو، یا اس چھوٹی سی پریس کانفرنس کی، ’جیسے کو تیسا‘ کی بنیاد پر پروٹوکول کا بڑا دھیان رکھتے ہیں۔ ٹیم کے ذکر سے یاد آیا کہ اس دورے پر ایرپورٹ بہت لکی ثابت ہوئے ہیں۔ دو مرتبہ بغیر کیس پلاننگ کے ہی ٹیموں کے ساتھ سفر کرنےکا موقع ملا اور اب میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ بیرون ملک دوروں پر بعض کھلاڑیوں کے بارے میں کبھی کبھی ایسی ویسی باتیں جو آپ سنا کرتے ہیں، ان میں تھوڑی بہت صداقت ضرور ہوتی ہے۔ وشاکھا پٹنم ایرپورٹ پر نوید الحسن سے کافی دیر بات کرنے کا موقع ملا۔ معلوم ہوا کہ یہ شخص بہت سیدھا سادہ انسان ہے جو پاکستان کے لئے قومی سطح پر جونئر ہاکی بھی کھیل چکا ہے۔ میں نے اپنا پسندیدہ سوال پوچھا۔ کچھ خریدا کہ نہیں؟ جواب ملا ’ہم تو کہیں جا نہیں سکے، لیکن کانپور میں میرا ایک دوست رہتا ہے اس نے کچھ ساڑھیاں خرید کر رکھی ہوئی ہیں‘۔ اس سے قبل یونس خان نے بھی مجھے بتایا تھا کہ انہوں نے بھی صرف ساڑھیاں ہی خریدی ہیں۔ ہندوستانی ساڑھیاں پاکستانی کھلاڑیوں میں بہت مقبول معلوم ہوتی ہیں۔ یہ تو چونکہ سیدھے سادے انسان سے سیدھی سادی بات تھی، اس لئے میں نے آپکو نام بتا دیا، لیکن کوچی میں پاکستان کی شکست کے بارے میں ایک اور کھلاڑی سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’بڑی ٹیموں میں اور پاکستان میں یہی تو فرق ہے۔ ان کے جب چار کھلاڑی آؤٹ ہوتے ہیں تو وہ ہمت نہیں چھوڑتے کوئی نہ کوئی اٹک ہی جاتا ہے۔ ہمارے چار آؤٹ ہوتے ہی پوری ٹیم بیٹھ جاتی ہے‘۔ میں تو پاکستان کو بہت بڑی ٹیم مانتا ہوں اور ٹیم کے ایک کھلاڑی سے یہ سن کر مجھے حیرت ہوئی۔ باقی کھلاڑی بھی کیا اس بات سے اتفاق کرتے ہیں، میں کہہ نہیں سکتا لیکن مجھے سب سے زیادہ مزہ پاکستان کو کھیلتے ہوئے دیکھنے میں آتا ہے کیونکہ پاکستانی ٹیم کب کیا کرگزرے گی، کوئی نہیں کہہ سکتا۔ اور اسی میں تو کرکٹ کا لطف ہے۔ بہرحال، وشاکھاپٹنم کےچھوٹے سے ایر پورٹ پر اترے تو معلوم ہوا کہ کھلاڑیوں کے زیادہ سامان کی وجہ سے صحافیوں کا سامان کوچی میں ہی اتار دیا گیا تھا۔ اس پر جم کر ہنگامہ ہوا بہت سے لوگوں کے پاس ایک جوڑی کپڑے بھی نہیں تھے۔ آخرکار ایرلائن نے سب کو ایک ایک جوڑی کپڑے خریدنے کے لئے ایک ایک ہزار روپیے دیے، تو معاملے کچھ ٹھنڈا ہوا۔ اب اگلا پڑاؤ اسٹیل سٹی جمشید پور میں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||