BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 April, 2005, 13:23 GMT 18:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تماشائیوں کا ردعمل، جدا جدا

تماشائی
پاکستان اور بھارت کے شائقین کے رویوں میں آخر یہ فرق کیوں؟
گزشتہ برس جب ہندوستان نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، تو ایک روزہ میچوں کے دوران میں بھی موجود تھا۔ پاکستان تو میں جاتا رہتا ہوں، اور اکثر سن چکا تھا کہ سرحد سے صرف زمین کا بٹوارا ہوا تھا دلوں کا نہیں۔ لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے عام لوگوں کو میزبانی میں اس طرح بچھتے دیکھا۔ کراچی میں جگہ جگہ استقبالیہ بینر لگے ہوئے تھے اور سندھ کی حکومت نے میچ کے روز سرکاری تعطیل کا اعلان کیا تھا۔

میرے لئے اہم بات یہ تھی کہ یہ بینر عام لوگوں اور چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے والوں نے لگوائے تھے اور لوگوں کی محبتوں کی عکاسی کر رہے تھے۔کراچی کے میچ میں ہندوستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے جم کر پاکستانی بولرز کی دھنائی کی لیکن شائقین نے ہر شاٹ کو کچھ اس انداز میں سراہا جیسےاپنی ہی ٹیم کی حوصلہ افزائی کر رہے ہوں۔

جن لوگوں نے وہ میچ دیکھا تھا، انہیں یاد ہوگا وہ منظر اور یہ بھی یاد ہوگا کہ ایک دوسرے کی بات صرف اشاروں سے سمجھ آتی تھی، سنائی دینے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ اور میدان میں شائقین کے ایک ہاتھ میں ہندوستان کا جھنڈا تھا اور ایک میں پاکستان کا۔

کراچی کے میچ کے بعد ٹیکسی نہیں ملی تو میں طارق روڈ جانے کےلیے ویگن میں بیٹھ گیا اور پٹھان کنڈکٹر نے سات روپئے مجھ پر قربان کر دئے۔ وہاں سے پنڈی گئے اور پھر میزبانوں کا شہر پیشاور دیکھا۔

کس نے سوچا تھا کہ تاریخی بادشاہ چوک میں کبھی ہندوستان کا پرچم اس بےباکی کے ساتھ لہرائے گا۔ پورے شہر میں پاکستان سے زیادہ ہندوستان کے جھنڈے نظر آرہے تھے۔

میں جب پاکستان سے لندن لوٹا، تو میرے ذہن میں پاکستان کی بدلی ہوئی تصویر تھی۔ ایسے لوگوں کی تصویر جو لمبے عرصے کے بعد ہی سہی، یہ سمجھ گئے تھے کہ کھیل کا میدان، میدان جنگ نہیں۔

میں اس ہفتے جب ہندوستان آرہا تھا تو وہ تصویر میرے ذہن میں نقش تھی اور فطرتی بات ہے کہ میں اس بات کا موازنہ کرناچاہتا تھا کہ یہاں پاکستانی ٹیم کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے۔

حیدرآباد کے میچ کا میں پہلے بھی ذکر کرچکا ہوں کہ ہزار بارہ سو لوگوں کے علاوہ وہاں کسی کو اس بات کا علم بھی نہیں تھا کہ پاکستانی ٹیم ان کے شہرمیں ہے۔
لیکن یہ ایک وارم اپ میچ تھا، اور اس کا موازنہ ون ڈے انٹرنیشنل سے نہیں کیا جانا چاہیے۔

حیرت مجھے کوچی کا میچ دیکھ کر ہوئی۔ مجھے مقامی صحافیوں نے بتایا تھا کہ اسٹیڈیم میں اسی ہزار شائقین موجود ہوں گے اور پاکستان کو سپورٹ کی کمی محسوس نہیں ہوگی کیونکہ ملا پورم اور کالی کٹ جیسے اضلاع سے بڑی تعداد میں مسلمان میچ دیکھنے آئیں گے۔ مجھے اسی وقت یہ سوال کرنا چاہیے تھا کہ پاکستان کی حمایت کرنے کے لئے باہر سے مسلمانوں کے آنے کی ضرورت کیونکر پیش آئے اور کیوں صحافی اس جانب میری توجہ دلائیں کیونکہ پاکستان میں تو اندرون سندھ سے ہندو نہیں آئے تھے ہندوستانی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے۔

آج جب میچ شروع ہوا، تو اسٹیڈیم میں چار پانچ پاکستانی جھنڈے نظر آرہے تھے۔ جب تک ہندوستان نے بیٹنگ کی اور سہواگ اور دراوڈ کریز پر رہے، تو اسٹیڈیم تالیوں سے گونجتا رہا اور جب پہلی اننگز کےآخری اوورز میں پاکستان میچ میں واپس آیا، تو خاموشی چھا گئی۔

میں نے کسی پاکستانی بیٹسمیں کے شاٹ کی تعریف میں شور نہیں سنا۔
تو کیا دوسرے صحافیوں نے بھی یہ فرق محسوس کیا؟ میں نے ان صحافیوں سے بات کی جو پاکستان میں ملے تھے۔ سبھی کا خیال تھا کہ تب سے لیکر اب تک، دونوں ملک کافی کرکٹ کھیل چکے ہیں جس کی وجہ سے شاید اب وہ ولولہ باقی نہیں۔

لیکن زیادہ کرکٹ سے اسٹیڈیم میں آنے والوں کی تعداد تو متاثر ہوسکتی ہے، ان کا رویہ نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ میں نے اس نتیجے پر پہنچنے میں جلدی کی ہو، میں آئندہ میچوں میں اس پر نظر رکھوں گا۔ لیکن میں نے جس پاکستانی صحافی سےبات کی وہ کافی ناراض تھے۔

”یہاں کوئی سہولت نہیں۔ ہمارے یہاں تو آپ چھوٹے سےچھوٹے میدان پر چلے جائیں تو اس سے بہتر سہولیات ملتی ہیں۔ آج تو کھانا اتنا خراب تھا کہ میں نے واپس کردیا۔ اسٹیڈیم میں کچھ خرید کر کھانے کو بھی نہیں۔ صبح سے بھوکا ہوں لیکن یہاں کوئی پرسان حال نہیں۔"

لیکن میں اسے کوئی اہم بات نہیں مانتا۔میرے خیال میں پاکستان کےدورےپر بڑی تعداد میں ہندوستانی صحافی گئے تھے، لہذا ان کے لئے خاص انتظام ہوتا تھا، یہاں اب صرف دو تین پاکستانی صحافی ہیں اور شاید مقامی صحافیوں کی بھیڑ میں کھو سے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد