میچ پسینے بہائے گا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلور میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ جب فیصلہ کن مراحل میں داخل ہوا تو بہت سے لوگوں کے ساتھ میں بھی سڑک کے کنارے ایک چائے خانے کے باہر کھڑا میچ دیکھ رہا تھا۔ سوروگنگولی کو جب شاہد آفریدی نے بولڈ کیا، توافسوسناک آوازیں بلند ہوئیں۔گنگولی کو یقین نہیں آیا کہ وہ بولڈ ہوگئے ہیں، اور وہ امپائر کے فیصلے کے انتظار میں کریز پر ہی کھڑے رہے۔ کسی نے کہا کہ شاہد آفریدی نے تو اٹھہتر کی سیریز میں عمران خان کی اس ان سوئنگر کی یاد تازہ کرا دی جس پر گنڈپا وشوناتھ بولڈ ہوئے تھے۔ ٹیسٹ کون سا تھا، یہ تو یاد نہیں لیکن ’جونسا‘ بھی تھا، وشوناتھ نے یہ سمجھ کر اپنا بیٹ ہوا میں اٹھا لیا تھا کہ بال آف سٹمپ کے بہت باہر جارہی ہے۔ یہاں موازنہ شاید شین وارن کی اس حیرت انگیز بال سے زیادہ درست ہوگا جس پر مائیک گیٹنگ بولڈ ہوئے تھے۔ بہرحال پیر کی شام انجام کار یہ ہوا کہ پاکستان نے بنگلور میں تاریخ دہرائی اور سیریز برابر کرلی۔میں نے قریب کھڑے ایک شخص سے پوچھا کہ اب ایک روزہ میچوں میں کیا ہوگا؟ وہ بولے ’بھائی صاحب، جب رات ہے ایسی متوالی تو صبح کا عالم کیا ہوگا‘۔ صبح کا عالم صبح کو ہی دیکھیں گے لیکن یہاں عام تاثر یہ ہی ہے کہ بنگلور کی کامیابی کے بعد پاکستان کے حوصلے بلند ہوں گے اور ایک روزہ میچوں کی سیریز میں فتح کا سہرا اسی کے سر بندھے گا۔ کل حیدرآباد دکن کے نئے سٹیڈیم میں پاکستان اپنا واحد ایک روزہ وارم اپ میچ کھیلے گا۔حیدرآباد پہنچتےہی احساس ہو گیا کہ اسے وارم اپ میچ کیوں کہا جارہا ہے۔ کل میچ کے دوران درجۂ حرارت چالیس ڈگری تک پہنچنےکا امکان ہے۔ تو حیرت کیا؟ ہندوستان کی اے ٹیم ہو یا بنگلور کی کامیابی سے تازہ دم پاکستان، کسی کو حریف ٹیم کے ’پسینے بہانے‘ میں زیادہ دیر نہیں لگےگی۔ دونوں ٹیمیں منگل کی شام حیدرآباد پہنچیں گی، اور اپنے مصروف شیڈیول کی وجہ سے گراؤنڈ میں پریکٹس کے لیے نہیں آئیں گی۔ شاید گرمی کی ہی وجہ سے اس میچ کے لیے ٹکٹوں کی فروخت بالکل ٹھنڈی پڑی ہے اور اب تک دو ہزار سے بھی کم ٹکٹ بکے ہیں۔ حیدرآباد آنے سے پہلے سوچا کہ ایک نظر دلی کا فیروز شاہ کوٹلہ میدان بھی دیکھ لیا جائے جس میں بڑے پیمانے پر تعمیر کا کام جاری ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ شاید وقت پر سٹیڈیم آخری ایک روزہ میچ کے لیے تیار نہ ہوسکے۔ میں نے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا تو ایک ہی بات سامنے آئی، صدر مشرف میچ دیکھنے آر ہے ہیں، ہر قیمت پر سٹیڈیم بھی تیار ہوگا، اور وکٹ بھی اچھی ہوگی، یہ ہماری عزت کا سوال ہے۔ کبھی کارگل کے محرک، تو کبھی معزز مہمان، واہ رے کرکٹ! |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||