کرکٹ تو اک بہانہ تھا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی پنجاب جانے والے پاکستانیوں میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جن کے خاندان تقسیم پنجاب اور قیام پاکستان کے موقع پر نقل مکانی کر کے پاکستان چلے آئے تھے۔ بھارت نے طویل عرصے سے پنجاب کے ویزے کے اجراء پر پابندی عائد کیے رکھی ہے لیکن اب موہالی ٹیسٹ کے لیے ویزے جاری ہوئے تو ویزے حاصل کرنے والوں میں ایسے لوگ بھی تھے جنہیں کرکٹ اور سیر و تفریح میں دلچسپی نہیں تھی بلکہ وہ اپنی یا اپنے آباؤ اجداد کی جائے پیدائش پر ایک بار جانا چاہتے تھے۔ یہ لوگ چندی گڑھ پہنچتے ہی ان گلیوں، مکانوں، محلوں اور قصبوں کی تلاش میں نکل گئے جنہیں نصف صدی پہلے ان کے خاندان والے چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ پاکستان نقل مکانی کر جانے والا ایسا ہی ایک خاندان لاہور کے الفیصل ٹاؤن، فردوس مارکیٹ کے عبدالحمید کا ہے۔ وہ خود آٹھ سال کے تھے جب وہ اپنے والدین کے ہمراہ اٹاری کے گاؤں کاؤنکے سے ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ اٹاری کا یہ گاؤں پاکستان کی سرحد سے صرف پانچ منٹ سفر کے فاصلے پر ہے لیکن اس فاصلے کو طے کرنے میں عبدالحمید کو پچاس سال لگ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے دادا قیامِ پاکستان سے پہلے ہی فوت ہوگئے تھے اور انہیں کھیت میں دفن کر دیا گیا تھا۔ ان کے خاندان کے ہجرت کر جانے کے بعد کھیت کا قبضہ پانے والے سکھ نے اس قبر پر ہل چلانا چاہا تو سکھ اور اس کے بیل مر گئے جس پر گاؤں والوں نے ان کے دادا کا مزار بنا دیا اور کئی سال بعد انہیں تلاش کر کے خط لکھے اور دادا کی قبر پر مزار بنانے سے آگاہ کیا۔ سکھ صاحب ہی کے بارہا بلانے پر عبدالحمید اپنے دادا وزیر شاہ کے دربار پر حاضری دینے پہنچ گئے۔ ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ اور جوان بیٹا بھی تھا۔ انہوں نے دادا کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور دیگ پکوا کر نیاز دلوائی۔
دھرم پورہ کے رہائشی دکاندار شبیر نے بیس سال پہلے اکیلے بھارت کےشہر پٹیالہ کے گاؤں نابھ جاکر اپنی کزن سے شادی کی تھی۔ اب ان کے چار لڑکے اور دو بیٹیاں ہیں۔ کرکٹ ویزہ لگا تو وہ اپنے سسرال والوں سے ملنے کے لیے آگئے ہیں۔ لاہور کی ممتاز جہاں چھ ماہ کی تھیں جب انہیں اور ان کے والدین کو ہجرت کرنا پڑی تھی۔ اب وہ بہو بیٹے کہ ہمراہ انبالہ کے قصبے شاہ آباد پہنچیں تو ان کے پاس لکھے محلوں اور گلیوں کے نام تبدیل ہو چکے تھے۔ اس دور کے لوگ ڈھونڈنے نکلے تو بس ایک گیان چند ہی مل پایا۔ اس کی پاکستان میں ممتاز جہاں کے والد سے فون پر بات کرائی گئی تو وہ ایڈرس بتانے میں مدد کرنےکے قابل ہوا۔ ممتاز جہاں کے آبائی گھر کی قریبی مسجد گردوارہ بن چکی تھی۔ مسجد کا خستہ حال گنبد قائم تھا لیکن اس کے کچھ حصے توڑ کر ہندوؤں سکھوں نے مکان بنا لیے تھے۔ ممتاز جہاں کے آبائی مکان سمیت ارد گرد کے پرانے مکان مسمار ہو چکے تھے۔ وہ علاقہ جو کبھی پیر زادوں کا محلہ کہلاتا تھا اب اس کا نام تبدیل ہو چکا تھا شیام نگر ہو چکا تھا۔ اٹھاون سالہ ممتاز جہاں کی آنکھوں میں آنسو آگئے انہوں نے وضو کیا اور گردوارہ شام سنگھ میں، جو کبھی مسجد ہوا کرتی تھی اور ان کے والد اس میں نماز پڑھتے تھے، دو نوافل ادا کیے اور چلی گئیں۔اب ان کے لیے وہاں کچھ نہیں تھا، اپنی مٹی اجنبی ہو چکی تھی۔ پاکستانیوں کو پنجاب کے کسی بھی شہر جانے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ پاکستانی باشندے فتح شیر میں مجدد الف ثانی شیخ سرہندی کی درگاہ سے لے کر امرتسر پٹیالہ، روپڑ، جالندھر اور لدھیانہ سمیت پنجاب کے کئی شہروں، قصبوں اور دیہات میں پھرتے نظر آئے۔ لیکن اپنی اپنے اباؤ اجداد کی جائے پیدائش کی تلاش میں جانے والے کئی پاکستانیوں کو ایسی ہی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا جن میں سے ممتاز جہاں، ان کے بچوں اور پوتے بھی گزرے تھے۔ ایسے کئی لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور اٹھا ہوگا کہ کیا مٹی بھی انسانوں کی طرح پرائی ہو جاتی ہے؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||