بھارتی شہری کی سزا پر تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایک ہندوستانی شہری کو جاسوسی کے الزام میں موت کی سزا سنائے جانے پر ہندوستان کی پارلیمنٹ میں تشویش ظاہرکی گئی ہے۔ اراکینِ پارلیمان یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ بھارتی حکومت اس معاملے میں حکومت پاکستان سے بات کرے۔ ہندوستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ارکان نے منجیت سنگھ کی پھانسی کا معاملہ اٹھایا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ شناخت میں غلطی کا معاملہ ہے۔ اراکینِ پارلیمان اس بات پر مصر تھے کہ منجیت سنگھ دراصل امرتسر کا رہنے والا سربجیت سنگھ ہے جو بظاہر کسی غلط فہمی کے سبب ان حالات کا شکار ہوا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور شرومنی اکالی دل کے ارکان نے یہ مطالبہ کیا کہ حکومت سربجیت کی جان بچانے کے لیے فوراً مداخلت کرے۔ سپیکر سومناتھ چٹرجی نے بھی کہا کہ اراکین کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ وہ مناسب قدم اٹھائے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ہی ایوانوں میں سبھی جماعتوں کے ارکان نے اس مطالبے کی حمایت کی کہ حکومت سربجیت کی جان بچانے کے لیے پاکستانی حکام سے بات کرے۔ راجیہ سبھا میں نائب صدر بھیروں سنگھ شیخاوت نے حکومت سے اس معاملے پر بیان دینے کو کہا ہے۔ مرکزی وزیر سریش پچوری نے اراکین کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کے جذبات حکومت تک پہنچا دیں گے۔ منجیت سنگھ عرف سربجیت سنگھ کو پاکستان میں متعدد بم دھماکے کرنے کے جرم میں عدالت نے موت کی سزا سنائی ہے۔ پاکستانی حکام نے منجیت سنگھ کو ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ بتایا ہے تاہم یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی ہندوستان نے نہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔ ملک کے تمام اخبارات نےیہ خبر نمایاں طور پر شائع کی ہے جبکہ کئی اخبارات نے سربجیت کی بیوی، بچوں اور بہن کی تصویریں شائع کی ہیں جو پھانسی کے پھندوں کے سامنے کھڑی ہیں۔ ان سبھی نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر سربجیت سنگھ کو پھانسی دی گئی تو وہ خودکشی کر لیں گی اور اس کی ذمےداری ہندوستان و پاکستان کی حکومتوں پر ہو گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||