کھوکھرا پار، مونا باؤ بات چیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے ریلوے حکام کے درمیان کھوکھراپار سے موناباؤ تک ریل سروس بحال کرنے کے لئے تین روزہ بات چیت کا دور جمعرات کی صبح سے شروع ہو رہا ہے۔ اس بات چیت میں شرکت کے لئے پاکستان کے ریلوے حکام کا ایک وفد ہندوستان پہنچ گیا ہے۔ اپنے قیام کے دوران پاکستانی حکام ہندوستانی ریلوے حکام کے ساتھ ہندوستان میں راجستھان کے موناباؤ سے پاکستان کے صوبہ سندھ میں کھوکھراپار تک جانے والی ریل سروس شروع کرنے کے تمام پہلوؤں پر غور کرے گا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کی طرف سے ریلوے حکام کا ایک وفد چار سے سات جنوری تک ہندوستان میں رہے گا‘۔ ترجمان نے بتایا کہ اس وفد کی سربراہی پاکستان ریلوے کے (آپریشنز ادراے کے )جنرل مینجر سلیم الرحمن اکھونڈ کر ہے ہیں اور ہندوستانی وفد کے قیادت وزارت ریل کے ٹریفک کے شعبے کے مشیر اشوک گپتا کريں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ریل رابطہ دونوں ملکوں کے درمیان موجود نقل و حمل کی سہولیات میں مزيد اضافہ کرے گا‘۔ اپریل دوہزار پانچ ميں ہندوستا ن اور پاکستان کے مشترکہ بیان میں اس ریل سروس کو پہلی جنوری دو ہزار چھ سے شروع کرنے کی بات کی گئی تھی ۔اس ریلوے لائن پر آخری مرتبہ 1965 میں ریل چلی تھی۔ اس ریل سروس کے بند ہونے کے سبب مسافروں کو چند کلومیٹر کی دوری کا سفر طے کرنے کے لئے کافی وقت اور پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اگر یہ ریل سروس شروع ہوجاتی ہے تو ’سمجھوتا ایکسپریس‘ کے بعد یہ دورسری ریل سروس بنے گی جو ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں کو جوڑے گی۔ سمجھوتا ایکسپریس ہندوستان کے اٹاری کے مقام کو پاکستان کے واہگہ بارڈر سے ملاتی ہے۔ |
اسی بارے میں سیاچین: حل کے لیے ڈیڈ لائن مقرر 04 October, 2005 | پاکستان نئے فضائی رابطے ابھی نہیں28 September, 2005 | پاکستان مشرف منموہن: مزیدملاقاتوں کاعزم15 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||