BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 September, 2005, 06:23 GMT 11:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف منموہن: مزیدملاقاتوں کاعزم
مسئلہ کشمیر کے حل سے جنوبی ایشیاء میں نئے دور کا آغاز ہوگا: مشرف
صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے درمیان چار گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں دونوں رہنماؤں نے قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں اور کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل کو بات چیت کے ذریعے طے کرنے کے لیےدوطرفہ مذاکرات جاری رکھنے کا عزم کیا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان نیویارک میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد صدر مشرف نے وزیر اعظم من موہن سنگھ کی موجودگی میں مشترکہ اعلامیہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو پڑھ کرسنایا۔

صدر مشرف نے کہا کہ ’ہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسائل کے حل کے لیے تمام ممکنہ تجاویز پر سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔‘

دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات چار گھنٹے جاری رہی

اس ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق رائے ہوا کہ دہشت گردی کو دونوں ملکوں کے درمیان جاری مذاکرات میں حائل نہیں ہونےدیا جائےگا۔

مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ’ہم نے اپنی جنوری چھ سن دو ہزار چار اور اٹھارہ جولائی سن دوہزار پانچ کی ملاقاتوں کے بعد جاری ہونے والے بیانات کو دہراتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کو مذاکرات میں حائل نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘

من موہن سنگھ نے صدر مشرف سے ہونے والے مذاکرات کے بارے میں اطمینان کا اظہار کیا جس کے بعد دونوں رہنما ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب دئیے بغیر وہاں سے چلے گئے۔

اس اعلامیہ میں جامع مذاکرات کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت، تجارتی اور اقتصادی شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون، لوگوں کے درمیان تعلقات اور اعتماد کی بحالی کے اقدامات پر اطمیان کا اظہار کرتے ہوئے ان کا خیر مقدم کیا۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ دنوں میں قیدیوں کے تبادلے کا بھی خیر مقدم کیا۔

اس ملاقات میں یہ طے پایا ہےکہ بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گے۔

دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں اس بات عزم کیا کہ نزاعی امور کو حل کیا جانا چاہیے تاکہ خطے میں امن کو فروغ ہو۔

پاکستانی وفد میں جنرل پرویز مشرف کے ساتھ نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکٹری طارق عزیز اور واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر جہانگیر کرامت کے علاوہ منیر اکرم اور وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری شامل تھے۔

اس ملاقات سے قبل جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ بھارت کے ساتھ جاری مذاکرات سے جنوبی ایشیاء میں امن اور تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر کے مسئلے کا حل نکل آیا تو دنوں ملکوں کے درمیان تصادم اور کشاکش کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔

صدر پرویز مشرف نے عالمی سطح پر اقتصادی ناہمواری کا خاص طور سے ذکر کیا اور کہا کہ عالمگیریت نے خوشحالی میں بھی اضافہ کیا ہے اور غریبی میں بھی۔ بین الاقوامی تجارت اور مالیات کے ضابطے غریبوں کمزوروں کے خلاف جاتے ہیں۔

صدر مشرف نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ جاری جامع مذاکرات نتیجے پر منتہج ہوں۔ ’انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو نفرت اور تاریخ اور کشاکش اور تصادم میں پھنسے نہیں رہنا چاہیئے لہذا جموں اور کشمیر کا مسئلہ منصفانہ انداز سے حل ہونا چاہیے اور اس کا حل بھارت، پاکستان اور سب سے بڑھ کر کشمیروں کو قبول ہو۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو عمومی نشستوں کی رکنیت میں کھلے دل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کونسل کو نئے اور خاص ارکان میں اضافے کی بنا پر نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کے حوالے سے مزید نمائندہ ہونا چاہیے۔

66کشمیر پر نئی بات
کیا کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا؟ آپ کی رائے
66عنوان سوچئے
مشرف نے من موہن سنگھ کو البم پیش کی
66 دل جیتیں گے: منموہن
منموہن سنگھ اگلے ہفتے کشمیر کا دورہ کر رہے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد