’مذاکرات سے نئے دور کا آغاز ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے امید ظاہر کی ہے کہ بھارت کے ساتھ جاری مذاکرات سے جنوبی ایشیاء میں امن اور تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر کے مسئلے کا حل نکل آیا تو دنوں ملکوں کے درمیان تصادم اور کشاکش کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ جنرل مشرف اب سے کچھ دیر بعد بھارت کے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ سے کھانے پر ملاقات کر رہے ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے عالمی سطح پر اقتصادی ناہمواری کا خاص طور سے ذکر کیا اور کہا کہ تماشا یہ ہے کہ عالمگیریت نے خوشحالی میں بھی اضافہ کیا ہے اور غریبی میں بھی۔ بین الاقوامی تجارت اور مالیات کے ضابطے غریبوں کمزوروں کے خلاف جاتے ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے کہا کہ معاشی حقوق بھی اتنے ہی اہم ہوتے ہیں جتنے شہری حقوق۔ بھوکا آدمی آزاد آدمی نہیں ہوسکتا۔ صدر مشرف نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ جاری جامع مذاکرات نتیجے پر منتہج ہوں۔ ’انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو نفرت اور تاریخ اور کشاکش اور تصادم میں پھنسے نہیں رہنا چاہیئے لہذا جموں اور کشمیر کا مسئلہ منصفانہ انداز سے حل ہونا چاہیے اور اس کا حل بھارت، پاکستان اور سب سے بڑھ کر کشمیروں کو قبول ہو۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو عمومی نشستوں کی رکنیت میں کھلے دل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کونسل کو نئے اور خاص ارکان میں اضافے کی بنا پر نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کے حوالے سے مزید نمائندہ ہونا چاہیے۔ ایران کے صدر احمدی نژاد نے، جو عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار بیرونی دورے پر گۓ ہیں، اپنے خطاب میں امریکہ کا نام لیے بغیر اقوام متحدہ پر اس کے اثر کا ذکر کیااور کہا کہ منشور کے مطابق تمام ارکان کو مساوی حقوق ملنے چاہئیں۔ زیادہ طاقت یا زیادہ دولت کی وجہ کسی رکن کے حقوق میں توسیع نہیں ہونی چاہۓ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||