BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسئلے کا حل ہمارے عہد میں‘
جنرل مشرف
جنرل مشرف اور من موہن سنگھ میں اگلے چند روز میں نیویارک میں ملاقات ہو رہی ہے
صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک بار پھر اس امید کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ملکوں کے موجودہ رہنماؤں کے اپنے اپنے منصب پر فائز رہنے کے دوران پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر حل کر سکتے ہیں۔

صدر مشرف نے یہ بات نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اگلے چند روز میں بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ سے اپنی متوقع ملاقات سے پہلے کی ہے۔

اسلام سے بی بی سی کی نامہ نگار جنت جلیل نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ صدر مشرف کا یہ تازہ بیان بین الاقوامی برادری میں بھارتی کی جانب پاکستانی رہنما کے مثبت پیغامات کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔

جنرل مشرف یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کشمیر جیسے پرانے مسئلے کو حل کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے بھارت اور پاکستان میں شدید کشیدگی بھی رہی ہے اور جو دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا سبب بھی بن چکا ہے۔

تاہم صدر مشرف نے یہ نہیں کہا آیا یہ مسئلہ سن دو ہزار سات تک حل ہو سکے گا یا نہیں جب جنرل مشرف کے عہدۂ صدرات کی مدت ختم ہو رہی ہے۔

صدر مشرف نے کہا وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی نظام الاوقات نہیں دے سکتے۔ ’لیکن یقیناً یہ بات میں اس وقت سے کہہ رہا ہوں جب سے بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ ذاتی سطح پر میرا تعلق پیدا ہوا ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ دونوں طرف مسئلے کے حل کے سلسلے میں رجائیت پائی جاتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دنوں ملکوں نے کشمیر کے حل کے لیے مثبت ردِ عمل ظاہر کیا ہے اور ’ہمیں (مجھے اور بھارتی وزیرِ اعظم کو) اپنے اپنے عہدوں کی معیاد کے دوران ہی اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

تقریباً دو برس سے بھارت اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں لیکن حالیہ عرصے میں یہ بات چیت کسی حد تک تعطل کا شکار ہے۔ لیکن امید کی جا رہی ہے کہ نیویارک میں من موہن سنگھ اور جنرل مشرف کی ملاقات کے بعد مذاکرات کا یہ عمل جو تعطل کا شکار ہے ایک مرتبہ پھر آگے بڑھنا شروع ہو جائے گا۔

بھارت اور پاکستان دونوں اگلے ہفتے ایک دوسرے کے سینکڑوں قیدیوں کو خیرسگالی کے طور پر رہا کر رہے ہیں۔

پاکستان نے بھارتی حکومت کے حریت رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔ یہ مذاکرات گزشتہ ہفتے ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
دلی کا ’بے بی‘ مشرف
15 April, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد