مشرف، بش ملاقات ہوگئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے نیویارک میں امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کی ہے جس میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ سمیت کئی اہم امور زیرِ بحث آئے۔ نیویارک میں موجود صحافی محسن ظہیر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ملاقات تیس منٹ تک جاری رہی جس میں دنوں رہنماؤں کے معاونین شریک نہیں تھے۔ محسن ظہیر کا کہنا تھا کہ امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے اور صدر مشرف کے ساتھ پاکستان سے آنے والے حکومت کے اہلکار اس ملاقات کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کر رہے تھے۔ ملاقات کے بعد امریکہ میں پاکستان کے سفیر جنرل ریٹائرڈ جہانگیر کرامت نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ صدر مشرف نے امریکی صدر کے ساتھ بات چیت میں کشمیر اور فلسطین کے مسائل پر بھی بات چیت کی۔ انہوں نے کہ ملاقات میں یہ بات بھی ہوئی کہ جامع مذاکرات میں بھارت کی طرف سے بھی پیش رفت ہونی چاہیے۔ ملاقات میں دو طرفہ دفاع اور معاشی امور بھی زیرِ بحث آئے۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر بالخصوص گفتگو کی۔ اس کے علاوہ افغانستان کی صورتِ حال اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی۔ صدر مشرف نے بھارتی وزیرِخارجہ کنڈولیزا رائس کے ساتھ گزشتہ روز ایک ملاقات کے دوران یہ تجویز پیش کی تھی کہ شدت پسندوں اور سمگلروں کی آمد و رفت روکنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑ لگا دی جائے۔ صدر مشرف اور صدر جارج بش کے درمیان ملاقات سے پہلے امریکی صدر اور بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کے درمیان بھی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کے حوالے سے بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ نیویارک میں بی بی سی ہندی کے نامہ نگار راجیش جوشی کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم من موہن سنگھ اور صدر جارج بش کی ملاقات کے بعد بھارت کے خارجہ سیکٹری شام سرن نے صحافیوں کو بریفنگ دی جس میں پاکستان کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی۔ تاہم اس نیوز بریفنگ کے اختتام کے قریب بھارتی وزیرِ اعظم کے میڈیا کے مشیر سنجے بارو نے صحافیوں کو بتایا کہ من موہن سنگھ نے امریکی صدر کو یہ کہا کہ ’پاکستان اب بھی دہشتگردی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتا ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||