صدر مشرف امریکہ کے دورے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اتوار کی صبح امریکہ کے سات روزہ دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔ صدر مشرف اپنے اس دورے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے علاوہ امریکی صدر جارج بش اور بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ اور دیگر غیر ملکی سربراہان سے بات چیت کریں گے۔ صدر نے روانگی سے قبل چکلالہ ائربیس پر سرکاری میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ان کے اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی ملاقات میں کشمیر کےمسئلے پر پیش رفت کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر سمیت دونوں ممالک کے درمیان تمام دیرینہ مسائل کے حل پر بات چیت کریں گے۔ صدر کے دورے کی اہم بات امریکن ۔ جیوش کونسل سے ان کا خطاب ہوگا جو پاکستان اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے درمیان اس ماہ کے اوائل میں ہونے والی ملاقات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پاکستان نے پہلی دفعہ دنیا کے سامنے اسرائیلی حکام کے ساتھ ملاقات کی ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ وہ امریکن ۔جیوش کونسل کے سامنے فلسطینی مؤقف کو پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ کوشش کریں گے کہ اس کونسل کے سامنے بھرپور طریقے سے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں اپنا موقف پیش کر سکیں۔ جنرل مشرف اس کے علاوہ خواتین پر تشدد کے خاتمے کے بارے میں ایک کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔ صدر جنرل پرویز مشرف سینٹکام ہیڈکوارٹر کا بھی دورہ کریں گے اور اپنے دورے کے آخری مرحلے پر وہ امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کریں گے جس میں پاکستانی حکام کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور افغانستان کی صورتحال کے علاوہ پاکستان کی دفاعی ضروریات پر بھی بات ہو گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||