BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 September, 2005, 17:09 GMT 22:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’محمود عباس کو اعتماد میں لیا گیا‘
محمود عباس
’فلسطین کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا ہے‘
استنبول میں پاکستانی وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری اور ان کے اسرائیلی ہم منصب سلوان شیلوم کے درمیان ملاقات سے پیدا ہونے والے تنازعے کے بارے میں پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نعیم خان نے کہا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس کو اس ملاقات کے سلسلے میں سے اعتماد میں لیا گیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب محمود عباس نے مئی میں پاکستان کا دورہ کیا تو صدر مشرف نے ملاقات میں انہوں نے خصوصاً اس بات کا ذکر کیا کہ مشرقِ وسطٰی میں قیامِ امن کے سلسلے میں پاکستان کیا کردار ادا کرسکتا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ ’ اسی تناظر میں جب غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلاء شروع ہوا پاکستان نے محسوس کیا کہ یہ اچھا موقع ہے کہ اسرائیل کی حوصلہ افزائی کی جائے تا کہ وہ اس قسم کے مزید اقدامات کرے‘۔

نعیم خان نے کہا کہ صدر مشرف نے دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات سے دو دن قبل فلسطینی رہنما محمود عباس سے ٹیلی فون پر بات کی اور انہیں اس ملاقات کے بارے میں مطلع کیا۔

اس سوال کے جواب میں کہ فلسطینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عماد زبیری کا کہنا ہے کہ پاکستان نے صرف اس ملاقات کی اطلاع دی لیکن فلسطینی انتظامیہ سے نہ تو اجازت لی گئی اور نہ ہی انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’ جب صدر مشرف نے فلسطینی رہنما محمود عباس کو مطلع کیا تو انہوں نے اس ملاقات کا نہ صرف خیر مقدم کیا بلکہ اسے اس مسئلے کے حل کیلیے امدادی قدم قرار دیا‘۔

فلسطینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے بیان پر نعیم خان نے مزید کہا کہ فلسطین کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا ہے اور ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان اس سلسلے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔

 ’ جب صدر مشرف نے فلسطینی رہنما محمود عباس کو مطلع کیا تو انہوں نے اس ملاقات کا نہ صرف خیر مقدم کیا بلکہ اسے اس مسئلے کے حل کیلیے امدادی قدم قرار دیا‘
نعیم خان

ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہم صرف ایک فریق کے مؤقف کی حمایت کر رہے تھے اور دوسرے فریق سے ہمارا کوئی رابطہ نہ تھا۔

پاکستان اسرائیل تعلقات اور صدر مشرف کے مجوزہ دورہ امریکہ کے دوران ان کی اسرائیلی وزیرِاعظم سے ممکنہ ملاقات کے بارے میں نعیم خان نے کہا کہ’ ابھی تک ہم نے اسرائیل سے مزید کوئی بلاواسطہ رابطہ نہیں کیا ہے اور اب ہم یہ دیکھیں گے کہ اسرائیل کیا قدم اٹھاتا ہے۔ پاکستان کا ایک وفد اکتوبر میں فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس کی دعوت پر غزہ اور القدس کا دورہ کر رہا ہے۔‘

نعیم خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’صدر مشرف کا دورہ امریکہ کے دوران اسرائیلی وزیرِاعظم ایرئل شیرون سے ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں ہے‘۔

یاد رہے کہ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب ایک عرب اخبار ’کل العرب‘ نے فلسطینی انتظامیہ کے ترجمان کا بیان شائع کیا تھا جس میں انہوں نے پاکستان پر بنیادی حقائق کو نظرانداز کرنے اور جلدبازی دکھانے کا الزام عائد کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد