BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 December, 2005, 11:58 GMT 16:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سیلف گورننس پرمزید بات ہو گی‘

ایل او سی
’کشمیر کے مسئلے پر اعتماد سازی کے اقدامات سے معاملے پر پیش رفت ہوئی ہے‘
پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان جامع مذاکرات کا تیسرا دور اگلے برس کے اوائل میں بھارتی دارالحکومت دلی میں ہو گا جس میں جموں کشمیر کے مسئلے اور امن اور سیکیورٹی کے معاملات زیر بحث آئیں گے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے بھارتی حکومت کے اس بیان کا بھی خیر مقدم کیا ہے جس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے اور علاقے میں سیلف گورننس کی پاکستانی تجاویز پر بات ہو رہی ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ جامع مذاکرات کا تیسرا دور اگلے برس جنوری کی سترہ اور اٹھارہ تاریخ کو ہو گا۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا پاکستان جامع مذاکرات کے عمل سے مطمئن ہے تو انہوں نے بتایا کہ جامع مذاکرات کے دوسرے دور میں توقعات تھیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات تیزی سے بہتر ہوں گے مگر کیونکہ معاملات بہت پیچیدہ نوعیت کے ہیں لہذا ان کو حل کرنے میں وقت لگے گا۔تاہم ان کے مطابق حالات مثبت سمت میں جا رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر اعتماد سازی کے اقدامات سے معاملے پر پیش رفت ہوئی ہے۔ ساتھ ہی ترجمان کا کہنا تھا کہ سیاچن کے مسئلے پر بھی بات چیت مثبت رہی ہے اور امید ہے کہ مذاکرات کے تیسرے دور میں مزید پیشرفت ہو گی۔

ترجمان نے یہ تو بتانے سے انکار کیا کہ سیلف گورننس اور کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کی تجاویز پر کس سطح پر مذاکرات ہو رہے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی ان تجاویز پر کشمیریوں میں بحث شروع ہوئی ہے اور پاکستان نے تین ہفتے قبل کہہ دیا تھا کہ ان تجاویز پر بھارت سے بات چل رہی ہے تو بھارت کی طرف سے اب اس بات کا اقرار ہو جانے سے بات واضح ہو گئی ہے۔

انہوں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری ہی اس حل کا خیر مقدم کرے گی جس سے کشمیر کے مسئلے کے حل کی طرف پیشرفت ہو اور پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کی فضا کم ہو۔

ترجمان نے بتایا کہ کھوکھراپار۔ مناباؤ ریلوے لنک کھولنے پر تکنیکی سطح پر مذاکرات دلی میں اگلے ماہ کی پانچ اور چھ تاریخ کو ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے اس ریل لنک کو کھولنے کی تیاریاں مکمل ہیں۔

اسی بارے میں
’سیلف گورننس پر بات ہوئی‘
23 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد