’سیلف گورننس پر بات ہوئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سے فوجیں ہٹانے اور سیلف گورننس کے معاملات پر بات چیت ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات چیت کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بات چیت کے دوران کوئی بھی چیز طے نہیں پائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’طے کچھ نہیں ہوا ہے اور ہم چاہیں گے کہ بھارت اس پر مثبت جواب دے تاکہ ہم مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کی جانب چل سکیں‘۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا کے اس بیان پر کہ پاکستان بھارت کے درمیان ایسی کوئی بات چیت نہیں جس پر تبصرہ کیا جا سکے، تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ’مجھے اس بات پر حیرت ہو رہی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں جس پر بات کی جائے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجیں ہٹانے اور سیلف گورننس کے معاملات پر بات ہوئی ہے۔ تاہم میں اس بات چیت کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتی‘۔ اس سوال پر کہ کیا اس بات چیت میں کشمیر کی خودمختاری کی بات ہوئی ہے، وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ’ خودمختاری کی تو بات ہی نہیں کر رہے ہیں بات سیلف گورننس کی ہو رہی ہے‘۔ تسنیم اسلم نے نہ صرف تجاویز کی تفصیل بتانے سے انکار کیا بلکہ مذکورہ بات چیت کے مقام کی تصدیق بھی نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم عوامی طور پر ابھی بات نہیں کریں گے کہ یہ تجاویز کیا ہیں۔ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ یہ بات عام کی جائے۔ میں اس بات کی تصدیق کرتی ہوں کہ بات چیت ہوئی ہے تاہم اس بات چیت میں کیا بات ہوئی یہ میں نہیں بتا سکتی‘۔ اس سوال پر کہ کیا یہ بات چیت کسی جاری شدہ مذاکرات کا حصہ ہے اور یہ سسلسلہ جاری رہے گا تسنیم اسلم نے کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امید ہے کہ یہ بات چیت جاری رہے گی۔ | اسی بارے میں ’بھارتی بیان سمجھ سے بالاتر ہے‘23 November, 2005 | پاکستان ’سیلف گورنینس پر بات ہوئی ہے‘ 22 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||