’بھارتی بیان سمجھ سے بالاتر ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارت کے اس بیان پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس مہینے کے اوائل میں ڈھاکہ میں پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز اور ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ کی ملاقات میں کشمیر کے حوالے سے ’سیلف گورنینس‘ کا ذکر ضرور آیا تھا لیکن اس سلسلے میں کوئی تجویز نہیں پیش کی گئی تھی۔ پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر کی سیلف گورننس اور علاقے کو غیر فوجی قرار دینے کے معاملات کے بارے میں دونوں ممالک کے حکام کے درمیان گذشتہ کچھ عرصے سے بات چیت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی دفتر خارجہ کا یہ کہنا کہ اس بارے میں پاکستان سے کوئی تجویز نہیں آئی ہے سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کے مطابق اس بات چیت کے بارے میں اگر بھارتی دفتر خارجہ بے خبر ہے تو یقینا یہ ایک حیرانگی کی بات ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گیے ایک بیان میں کل کہا گیا تھا کہ چونکہ اس سلسلے میں کوئی تجویز نہیں آئی ہے اس لیے رد عمل کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت کو کشمیر میں سیلف گورننس اور اس کو غیر فوجی علاقہ بنانے کی پاکستانی تجاویز پر کھلے ذہن سے غور کرنا چاہئے تاکہ مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جا سکے اور خطے میں دائمی امن قائم ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ یہ تجاویز نئی نہیں ہیں اور ان پر ماضی میں بھی دونوں ممالک کے حکام ان پر بات چیت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت سیلف گورننس اور کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے پر بات چیت سے بچنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ امر باعث افسوس ہو گا۔ دفتر خارجہ کے مطابق کشمیر کے تناظر میں سیلف گورننس اور اس کو غیر فوجی علاقہ بنانے کی پاکستانی تجاویز کو کشمیری رہنماؤوں بشمول آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کی حمایت حاصل ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو مسئلہ کشمیر کو خلوص، لچک اور جرات کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان کے اس بیان کو غیر ضروری قرار دیا جس میں انھوں نے گلگت اور بلتستان کو بار بار کشمیر کے تناظر میں بڑھا چڑھا کر بیان کیا۔ پاکستانی ترجمان کے مطابق کشمیر کے تناظر میں بھارتی قابض افواج کی طرف سے بڑے پیمانے پر کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اس تناظر میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ | اسی بارے میں ’سیلف گورنینس پر بات ہوئی ہے‘ 22 November, 2005 | انڈیا ایل او سی:سخت حفاظتی انتظامات06 November, 2005 | پاکستان کچھ کشمیری ایل او سی پار کریں گے17 November, 2005 | پاکستان ’میرے لئے ایک حج سے کم نہیں‘22 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||