BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 November, 2005, 02:59 GMT 07:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میرے لئے ایک حج سے کم نہیں‘

اس منقسم کشمیری خاندان کو اکیس سال بعد مل بیٹھنے کا موقع ملا ہے
زلزے کے باعث مظفرآباد سرینگر بس سروس معطل ہونے کے بعد منقسم کشمیری خاندانوں کے چوبیس افراد پہلی مرتبہ اپنے عزیزوں سے ملنے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آئے ہیں۔

یہ مسافر سنیچر کو ٹیٹوال سے پیدل لائن آف کنڑول عبور کرکے وادی نیلم میں داخل ہوئے۔ حال ہی میں اس جگہ دونوں کشمیر کو ملانے کے لئے دریائے نیلم پر ایک پل تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ پل سن انیس سو سینتالیس میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے معاملے پر پہلی جنگ کے نتیجے میں تباہ ہوگیا تھا۔

جن چوبیس منقسم کشمیری خاندانوں کے افراد نے سنیچر کے روز لائن آف کنڑول عبور کی ان میں ٹیٹوال کے علی زمان، ان کی اہلیہ اور ایک بیٹا ہیں۔

علی زمان کو انیس سو چوراسی کے بعد پہلی بار اپنوں سے ملنے کا موقع ملا ۔ اس دوران ان کی بہن وفات پا چکی ہیں۔ علی زمان کا گھر ٹیٹوال میں تھا لیکن وہ زلزے کے باعث تباہ ہو چکا ہے ۔ لائن آف کنڑول کے دوسری جانب علی زمان کے عزیز بھی مظفرآباد شہر کے قریب بالا پیر میں خیموں میں رہتے ہیں ۔

علی زمان کو انیس سو چوراسی کے بعد پہلی بار اپنوں سے ملنے کا موقع ملا
علی زمان کہنا ہے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق اپنی بھانجیوں کے لئے کچھ رقم لائے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بھانجیوں کے عارضی گھر تعمیر کرنے میں بھی مدد کریں گے۔ان کا کہنا ہے کہ ’جب میں انیس سو چوراسی میں پہلی مرتبہ مظفرآباد میں آیا تھا تویہ شہر خوبصورت، ہنستا بستا، پررونق اور گنجان آباد تھا لیکن آج یہ شہر اجڑا ہوا ہے اور یہ کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ’اس شہر کو دیکھ کر دل اداس ہوتا ہے۔‘

ان کو یہ بھی دکھ ہے کہ انکے عزیز خمیوں میں رہتے ہیں ۔ علی زمان کو یہ غم بھی ہے کہ انکی بہن ان کے درمیان نہیں ہے۔ لیکن ان کو یہ خوشی ہے کہ انہیں اپنی بھانجیوں اور دیگر عزیزوں سے ملنے کا موقع ملا ہے ۔ ان کا کہنا ہے ’یہ میرے لئے ایک حج سے کم نہیں ہے کہ ان کو اپنوں سے ملنے کا موقع ملا۔

علی زمان کو دیکھ کر ان کی بھانجیاں اور دیگر عزیز خوش ہیں ۔ ان کی ایک بھانجی نرگس بی بی کہتی ہیں کہ وہ اپنے ماموں ممانی اور مامو زاد بھائی کو دیکھ کر زلزے سے آنے والی تباہی بھول چکی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جب میں ماموں دیکھے تو میں نے ان کو پہچان لیا ، ممانی اور ماموں زاد بھائی کو بھی پہچان لیا۔‘

بات کرتے ہوئے نرگس اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکیں ۔ ’جب میں نے ماموں کو دیکھا تو میں رو پڑی وہ اس لئے کہ میں یہ سوچ رہی تھیں کہ اگر آج ہماری ماں زندہ ہوتی تو وہ کتنی خوش ہوتیں لیکن آج وہ ہم میں موجود نہیں ہیں۔‘

علی زمان کے ساتھ ان کی اہلیہ عصمت بیگم بھی آئی ہیں
نرگس بی بی کا کہنا ہے کہ’مجھے خوشی اس بات کی ہے ہمارے ماموں آگئے ہیں ممانی اور بھائی آگئے ہیں۔‘ نر گس کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنوں کے آنے کی خوشی اور اس خوشی میں ہم ہر غم بھول گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں زند گی میں پہلی مرتبہ یہ خوشی ملی۔ جب میرے ماموں پہلے آئے تھے تو اس وقت بہت چھوٹی تھی۔

علی زمان کی اہلیہ عصمت بیگم کے والدین کا تعلق مظفرآباد کے گاؤں بلگراں سے تھا لیکن کشمیر کے معاملے پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پہلی جنگ کے دوران وہ لائن آف کنڑول کے دوسری جانب رہ گئے تھے لیکن ان کے تین چچا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تھے۔ عصمت کے والدین کو دوبارہ اپنے آبائی گاؤں واپس آنے کا موقع نہیں ملا۔ البتہ عصمت اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ان کو یہ موقع ملا ہے ۔عصمت کے دو چچا پہلے ہی وفات پاچکے تھے جبکہ ان کے تیسرے چچا زلزے میں ہلاک ہوگیا ۔

عصمت کہتی ہیں کہ’میں اپنی چچا سے ملنے آئی تھیں لیکن مجھے مظفرآباد پہنچ کر اپنے رشتہ داروں سے معلوم ہوا کہ میرے چچا زلزے وفات پاچکے ہیں ۔ میں رونے کے سوا کیا کر سکتی ہوں ۔ جس سے ملنے آئی تھی وہ پہلے ہی اس دنیا سے رخضت ہوچکے ہیں۔‘

اگرچہ لائن آف کنڑول کے دوسری جانب بہت کم لوگ کشمیر کے اس حصے میں آئے لیکن یہاں بچھڑے ہوئے خاندانوں میں یہ امید بڑھ گئی ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید لوگ اپنوں سے مل سکیں گے۔

66زلزلہ اور میڈیا
اطلاعات کی رسائی کا نظام بری طرح متاثر
66’فور سٹار‘ کیمپ
کیوبن ڈاکٹرز اور چوبیس گھنٹےکھلی دکان
66جانور کی کیا اوقات
جانور توگھاس کے پرچی بھی نہیں لے سکتے
66سردی اور بھوک
وادی نیلم میں خوراک پہنچانے میں مشکلات
66بے بس وزیرِاعظم
مظفرآباد:وزیرِاعظم ہاؤس میں پہلے جیسا کچھ نہیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد