BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 December, 2005, 09:21 GMT 14:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک بھارت تعلقات میں پیشرفت کا سال

ایل او سی
ایل او سی کا کھلنا کشمیر کے مسئلے کے حل میں ایک نیا موڑ تھا
سال دو ہزار پانچ بھی گزشتہ کئی برسوں کی طرح اپنے اندر ایک تاریخ سمیٹے ختم ہو رہا ہے۔

اگر اس سال کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے تناظر میں دیکھیں تو اسے دونوں ممالک میں ماضی کی نسبت ’پیش رفت‘ کا سال کہا جا سکتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات مسئلہ کشمیر، سیاچن اور سرکریک کے تنازعات کے حل کے لیے تاحال ’بریک تھرو‘ ثابت نہیں ہوئے۔

مسئلہ کشمیر پر پیش رفت کے بارے میں اگر دیکھا جائے تو پاکستان یکطرفہ طور پر آگے بڑھتا نظر آتا ہے اور اس رائے کی تائید بھارتی تجزیہ کار بھی کر چکے ہیں۔

چاہے وہ کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی پیشکش ہو یا اس سے بھی ایک قدم آگے یعنی کشمیر میں ’سیلف گورننس‘ کی بات۔ اس پر بھارت نے تاحال کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے اپریل میں اپنے پیشرو فوجی صدر ضیاء الحق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ’ کرکٹ ڈپلومیسی‘ سے سال کا اچھا آغاز کیا اور بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے اصرار کیا کہ وہ بھی ان کی طرح کشمیر پر ’سٹیٹسکو‘ سے ہٹ کر سوچیں اور کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کے لیے آگے بڑھیں۔

لیکن کئی ماہ تک اس بارے میں پیش رفت نہ ہوئی تو صدر جنرل پرویز مشرف نے زلزلے کو ’لائف ٹائم اپرچیونٹی‘ مانتے ہوئے ستائیس اکتوبر کو جہاں کنٹرول لائن کھولنے کی بات کی وہاں کشمیر میں ’سیلف گورننس‘ کی تجویز بھی دی۔

پاک بھارت امن مذاکرات جاری رہے

اس بارے میں سرکاری طور پر تو بھارت خاموش رہا لیکن چند روز قبل ان کے قومی سلامتی کے متعلق مشیر کا ایک بیان سامنے آیا جس میں اس تجویز پر درِپردہ بات چیت آگے بڑھنے کے اشارے تھے۔

کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کے لیے بھارت کے خدشات ہیں کہ شدت پسند تنظیموں کی موجودگی تک وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ اس بارے میں کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا ’بہانہ‘ ختم کرنے کے لیے پاکستان کو کچھ اقدامات کرنے ہوں گے۔ چاہے وہ کشمیر میں ’جہاد‘ کرنے والی تنظیموں سے متفقہ فائر بندی کا اعلان ہو یا پھر ان کے خلاف وسیع پیمانے پر ’ کریک ڈاؤن‘۔

دونوں ممالک میں جاری امن مذاکرات میں جہاں اعتماد سازی کے اقدامات کے اعتبار سے گیس پائپ لائن کے معاہدے، سرینگر اور مظفرآباد بس سروس، لاہور سے امرتسر اور ننکانہ صاحب سے امر تسر بس سروس کے آغاز اور کنٹرول لائن پر پانچ مقامات سے سرحد کھولنے سمیت دیگر اقدامات کی صورت میں خاصی پیش رفت نظر آتی ہے وہیں بگلیہار اور کشن گنگا جیسے متنازعہ آبی منصوبوں پر چپقلش بھی واضح دکھائی دیتی ہے۔

ایل او سی پر زلزلہ متاثرین کے لیے امداد کا تبادلہ

سال دو ہزار پانچ میں جہاں اعتماد سازی کے اقدامات میں پیش رفت ہوتے نظر آتی ہے وہیں یہ امن مذاکرات اتار چڑھاؤ کا شکار بھی رہے۔ چاہے وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے صدر مشرف کے خطاب میں مسئلہ کشمیر کے بارے میں پرانے موقف کے’اتفاقیہ‘ ذکر کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہونے کا معاملہ ہو یا پھر دلی میں ہونے والے بم دھماکہ کے بعد کی صورتحال۔

لیکن ان واقعات کے باوجود مذاکرات متاثر نہیں ہوئے اور اب نئے سال کے پہلے ماہ کی سترہ تاریخ سے تیسرے مرحلے کی بات چیت شروع ہونے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ نئے مرحلے میں جہاں سیاچن اور سرکریک پر پیش رفت کی توقعات ہیں وہاں کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے اور ’سیلف گورننس‘ کی طرف بات بڑھنےکی امید ہے۔

سال دو ہزار پانچ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کے متعلق اگر کہا جائے کہ یہ اقدامات مشرق سے جنوب تک پھیلے ہیں تو غلط نہیں ہوگا اور اب کشمیر اور لاہور کے بعد کھوکھرا پار اور مونا باؤ ریل سروس اور کراچی اور بمبئی میں قونصل خانے کھلنے پر بھی اتفاق ہوچکا ہے۔

سال دو ہزار پانچ میں پاک بھارت تعلقات کے ذکر کے دوران جاسوسی کے الزام میں سزائے موت پانے والے سربجیت سنگھ کا ذکر نہ کرنا شاید درست نہ ہوگا۔ سربجیت کو سزا سے بچانے کے لیے ایک موقع پر ایسا لگا کہ بھارتی میڈیا نے اسے بھارت کا بڑا قومی مسئلہ بنا دیا ہو لیکن چند ہفتوں بعد یہی میڈیا سربجیت کو بھولتا نظر آیا۔

سربجیت کی رہائی کے لیے بھارت میں مظاہرے بھی ہوئے

چند روز بعد ختم ہونے والے رواں سال بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر ایل کے اڈوانی سے لے کر حریت رہنماؤں تک، پارلیمانی وفود سے لے کر تجارتی اور نوجوانوں کے وفود کا آنا جانا بھی سال بھر لگا رہا اور اس سال ماضی کی نسبت آمد و رفت کچھ زیادہ ہی رہی۔ لیکن اب بھی پچاس برسوں کے بداعتمادی کی فضا مکمل طور پر ختم ہوتے دکھائی نہیں دیتی۔

لال کرشن اڈوانی کے دورہ پاکستان کے موقع پر محمد علی جناح کے مزار پر حاضری اور رجسٹر میں درج کردہ تاثرات کا چرچا خاصے عرصے تک رہا اور انہیں چھ ماہ میں دو بار پارٹی صدارت سے استعفٰی دینا پڑا جو انہوں نے بعد میں واپس لے لیا۔

بعض مبصرین خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ رواں سال ہونے والے اعتماد سازی کے اقدامات اور آئندہ برس شروع ہونے والے تیسرے مرحلے کے مذاکرات پر کہیں بگلیہار اور کشن گنگا کے آبی منصوبوں پر اختلافات کا سایہ نہ پڑے۔

پاک انڈیا مذاکرات
تلخ ماحول میں مثبت نتائج کے امکانات کم ہیں
ایل او سی پار رابطہ
کم از کم دلاسہ تو دے سکتے ہیں: سہیل مسعود
پاک فوجایل او سی کی رکاوٹ
زلزلہ: پاک بھارت فوجی شراکت ممکن نہیں
ریاست ہائے کشمیر
کئی یونٹوں پر مشتمل ایک متحدہ ریاست
پناہ گزین کیمپپناہ گزینوں کی سوچ
پاکستان میں کشمیری بناہ گزین کیا سوچتے ہیں؟
اسی بارے میں
لاہور امرتسر بس بیس جنوری سے
21 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد