BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 December, 2005, 11:10 GMT 16:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور امرتسر بس بیس جنوری سے

بس سروس
تیرہ دسمبر کو لاہور سے امرتسر کے درمیان آزمائشی بس سروس چلائی گئی
پاکستان اور بھارت نے لاہور سے امرتسر اور امرتسر سے ننکانہ صاحب کے درمیان مسافر بس چلانے کے دو معاہدوں پر دستخط کردیے ہیں۔

لاہور میں جاری کیے جانے والے دونوں ملکوں کے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق لاہور سے امرتسر کے لیے پہلی بس بیس جنوری کو چلے گی اور امرتسر سے لاہور کے لیے بھارتی بس چوبیس جنوری کو چلے گی۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی بس جمعہ کو لاہور سے چلا کرے گی اور ہفتہ کو وہی بس مسافر لے کر واپس آیا کرے گی جبکہ امرتسر سے بھارتی بس ہر منگل کے روز لاہور کے لیے چلے گی اور بدھ کو لاہور سے مسافر لے کر واپس جایا کرے گی۔

پاکستان سے بس کا کرایہ نو سو پاکستانی روپے جبکہ بھارت سے بس کا کرایہ سات سو پچاس بھارتی روپے ہوا کرے گا۔

دونوں ملکوں نے امرتسر اور ننکانہ صاحب کے درمیان بس سروس شروع کرنے کے ابتدائی معاہدہ پر بھی دستخط کیے ہیں جس کے مطابق دونوں شہروں میں آزمائشی بس ستائیس جنوری کو امرتسر سے ننکانہ صاحب آئے گی اور انتیس جنوری کو ننکانہ سے امرتسر جائے گی۔اس آزمائشی سروس کے ایک ماہ بعد دونوں شہروں میں باقاعدہ سروس کا آغاز ممکن ہوسکے گا۔

امرتسر اور ننکانہ صاحب کے درمیان بس کا کرایہ پاکستان سے بارہ سو پاکستانی روپے جبکہ بھارت سے ایک ہزار بھارتی روپے ہوگا۔

بھارتی وفد کے سربراہ جوائنٹ سیکرٹری ٹرانسپورٹ سروج کمار نے کہا ابھی جو ان کے وفد کا مینڈیٹ امرتسر لاہور اور امرتسر ننکانہ مسافر بس کے سمجھوتوں کے لیے تھا اور یہ دونوں بہت اچھے ڈھنگ سے نپٹ گئے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک آگے لاہور سے اجمیر تک مسافر مسافر بس سروس کی بات ہے تو تکنیکی سطح پر اجلاس جو دلی میں ہوا تھا اس میں اس سروس کے بارے میں بھی بات ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس بس سروس پر ابھی مزید کام کرنا ہے اور اگر اسے چلانا قابل عمل پایا گیا تو اس پر بھی معاہدہ ہوجائے گا۔

پاکستانی وفد کے سربراہ ایڈشنل سیکرٹری مواصلات محمد عباس نے کہا کہ یہ فطری بات ہے کہ جب ہم لاہور اور امرتسر اورامرتسر اور ننکانہ کے لیے بس چلا رہے ہیں تو وہاں جانے والے پاکستانیوں کے لیے ویزے کے لیے بھی کچھ انتظامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر کچھ بات چیت ہوئی ہے اور ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ اس پر حکومتی اور سفارتی سطح پر مزید بات چیت ہو۔

اسی بارے میں
امرتسر سےلاہور، آزمائشی سفر
11 December, 2005 | پاکستان
بسوں کا تازہ ترین احوال
07 April, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد