BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 December, 2005, 14:23 GMT 19:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امرتسر سےلاہور، آزمائشی سفر

بھارتی بس
بس کا کرایہ پاکستانی کرنسی میں 900 روپے اور بھارتی کرنسی میں750 روپے ہوگا
بھارت کے شہر امرتسر سے ایک بس آزمائشی سفر پر لاہور پہنچی ہے اور اس سفر کو دونوں شہروں کے درمیان باضابطہ بس سروس کا نکتہ آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔

تقسیم ہند کے بعد سے ان دونوں شہروں کے درمیان پبلک ٹرانسپورٹ کا سلسلہ منقطع ہے لیکن اب دنوں ملکوں کے حکام نے ان شہروں کے درمیان بس سروس بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی سلسلے میں اتوار کو بھارت کے شہر امرتسر سے بھارتی حکام اور بس سروس کے عملے پر مبنی ایک نو رکنی وفد تقریباً پچاس کلومیٹر کا سفر کرنے کے بعد لاہور پہنچا ہے۔

لاہور کے واہگہ باڈر پر پاکستان ٹورازم کارپوریشن کے افسران اور دیگر حکام نے اس بھارتی وفد کا استقبال کیا جس کی سربراہی مشرقی پنجاب کے سیکرٹری ٹرانسپورٹ اے آر توار کر رہے ہیں۔

بھارتی وفد کے سربراہ نے اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان کے درمیان اس نئی بس سروس کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں شہروں سے ہر ہفتے دو بسیں چلا کریں گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس بس کا کرایہ پاکستانی کرنسی میں نو سو روپے اور بھارتی کرنسی میں ساڑھے سات سو روپے ہوگا۔

امرتسر سے لاہور آنے والے بھارتی شہری کو ابھی بھی ویزہ لینے کے لیے دہلی ہی جانا ہوگا اور پھر امرتسر واپس آکر بس کا سفر کر نا ہوگا
اے آر توار

پاکستان ٹوارزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) اور امرتسر روڈ ویز کی ایک ایک بس دونوں شہروں کے درمیان سفر کے لیے استعمال ہوگی۔ یوں امرتسر سے لاہور اور لاہور سے امرتسر کے درمیان سفر کرنے والوں کو دو دو مرتبہ سفر کی سہولت حاصل رہے گی۔

بھارتی وفد جس بس میں آیا ہے اس میں ڈرائیور اور کنڈیکٹر کے علاوہ پینتالیس مسافروں کی گنجائش ہے۔ بھارتی وفد کے سربراہ نے بتایا کہ ان کے اس دورے کا مقصد فنی معاملات کا جائزہ لینا ہے اور اس سفر کے دوران بھارتی ڈرائیور اور کنڈکٹر نے بھی راستہ دیکھ اور سمجھ لیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امرتسر سے لاہور آنے والے بھارتی شہری کو ابھی بھی ویزہ لینے کے لیے دہلی ہی جانا ہوگا اور پھر امرتسر واپس آکر بس کا سفر کر نا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام پہلے ہی پاکستان کو تجویز پیش کر چکے ہیں کہ امرتسر میں ایک ویزہ سیکشن کھول دیا جائے۔

یہ وفد لاہور میں ایک روز قیام کے بعد واپس چلا جائےگا اور منگل کو اسی طرح پاکستان کا ایک وفد اپنی بس لیکر لاہور سے امرتسر جائے گا۔

پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر ہاشم خان نے توقع ظاہر کی ہے کہ تئیس دسمبر سے لاہور سے امرتسر تک بس سروس باقاعدہ طور پر شروع ہو جائے گی اور اگلے مرحلے میں امرتسر سے سکھوں کے مقدس شہر ننکانہ صاحب تک بس سروس شروع کی جائے گی۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان ڈھائی سال پہلے دہلی اور لاہور کے درمیان بس سروس بحال ہوگئی تھی جس کے بعد اس سال کنٹرول لائن کے آر پار سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان بس سروس کا اجراء ہوا۔ اب اس نئی سروس کی بحالی کے ساتھ دونوں اطراف کے پنجاب کے درمیان تقسیم ہند کے بعد یہ پہلی باضابطہ بس سروس ہوگی۔

بس سروس کے علاوہ آئندہ ڈیڑھ ماہ کے اندر کھوکھراپار مناباؤ ٹرین سروس کا اجراء بھی متوقع ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ہوائی جہاز کی سروس بھی چل رہی ہےلیکن دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کے حامی حلقے سوا ارب کی آبادی کے درمیان ان تمام رابطوں کو ابھی بھی انتہائی ناکافی قرار دیتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد