BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 September, 2005, 17:32 GMT 22:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہورامرتسر:نومبرسے بس سروس شروع

بس سروس
بس کا کرایہ بھارت کی طرف سے 750 روپے اور پاکستان کی طرف سے 900 روپے ہوگا
بھارت اور پاکستان لاہور اور امرتسر کے درمیان بس چلائے جانے پر رضامند ہو گئے ہیں یہ بس آئندہ نومبر سے دونوں شہروں کے درمیان چلنا شرع ہو جائے گی ۔

دارالحکومت دلی میں دو روز کی بات چیت کے بعد امرتسر، لاہور اور
امرتسر، ننکانہ صاحب کے درمیان بس چلائے جانے کے علاوہ دوسرے مقامات کے لیے بھی بس شروع کرنے سے متعلق تمام پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

بھارت کی طرف سے وزارت خارجہ میں جوائنٹ سکریٹری دلیپ سنہا نے
اپنے وفد کی سربراہی کی اور پاکستان کی جانب سے محکمہ مواصلات کے ایڈیشنل سکریٹری محمد عباس اپنے وفد کی سربراہی کر رہے تھے۔

بھارتی وفد کے سربراہ دلیپ سنہا نے بتایا کہ ’دونوں ممالک لاہور اور امرتسر کے درمیان بس چلانے پر رضامند ہوگئے ہیں ۔ لاہور اور امرتسر کے درمیان بس چلانے کا " ٹرائل رن " نصف اکتوبر کے بعد شروع ہو جائے گا اور نومبر کی شروعات میں یہ بس عوام کے لیے شروع ہو جائے گی‘۔

سنہا نے مزيد بتایا کہ یہ بس ہفتے میں ایک ایک بار دونوں طرف سے چلائی جائے گی۔ اور اس کا کرایہ بھارت کی طرف سے 750 روپے اور پاکستان کی طرف سے 900 روپے ہوگا۔

لیکن امرتسر، ننکانہ صاحب بس سروس کے بارے میں دونوں وفود کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ اس معاملے میں بات چیت کا اگلا دور اکتوبر میں ہوگا۔

لاہور اور ننکانہ صاحب میں سکھوں کے مقدس مقامات ہیں اور بھارت کی سکھ
برادری ایک عرصے سے اس بات کا مطالبہ کر رہی ہے کہ امرتسر سے ان مقامات کی زیارت کے لیے بس چلائی جائے۔

ننکانہ صاحب علاقے میں ہی سکھوں کے پہلے گرو گرو نانک کی پیدائش ہوئی تھی اور یہ سکھوں کے چند مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔

فی الوقت بھارت اور پاکستان کے درمیان دلی، لاہور کے علاوہ سرینگر، مظفرآباد کے درمیان بسیں چل رہی ہیں۔

مستقبل میں جموں اور سیالکوٹ کے درمیان بس چلائے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے ۔

اکتوبر کے اوائل میں بھارت کے وزير خارجہ نٹور سنگھ ایک اعلی اختیاراتی وفد کے ہمراہ اسلام آباد جا رہے ہیں۔ اس وفد میں وزارت داخلہ ، دفاع اور مواصلات کے اعلیٰ اہلکار بھی شامل ہوں گے۔

اتحاد سازی کے جن پہلوؤں پر مفصل باتیں ہوں گی ان میں سیاچن گلیشئر سے فوجیں ہٹانے اور کشمیر کے پیچیدہ سوال پر خاص توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد