لاہورامرتسر:نومبرسے بس سروس شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان لاہور اور امرتسر کے درمیان بس چلائے جانے پر رضامند ہو گئے ہیں یہ بس آئندہ نومبر سے دونوں شہروں کے درمیان چلنا شرع ہو جائے گی ۔ دارالحکومت دلی میں دو روز کی بات چیت کے بعد امرتسر، لاہور اور بھارت کی طرف سے وزارت خارجہ میں جوائنٹ سکریٹری دلیپ سنہا نے بھارتی وفد کے سربراہ دلیپ سنہا نے بتایا کہ ’دونوں ممالک لاہور اور امرتسر کے درمیان بس چلانے پر رضامند ہوگئے ہیں ۔ لاہور اور امرتسر کے درمیان بس چلانے کا " ٹرائل رن " نصف اکتوبر کے بعد شروع ہو جائے گا اور نومبر کی شروعات میں یہ بس عوام کے لیے شروع ہو جائے گی‘۔ سنہا نے مزيد بتایا کہ یہ بس ہفتے میں ایک ایک بار دونوں طرف سے چلائی جائے گی۔ اور اس کا کرایہ بھارت کی طرف سے 750 روپے اور پاکستان کی طرف سے 900 روپے ہوگا۔ لیکن امرتسر، ننکانہ صاحب بس سروس کے بارے میں دونوں وفود کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ اس معاملے میں بات چیت کا اگلا دور اکتوبر میں ہوگا۔ لاہور اور ننکانہ صاحب میں سکھوں کے مقدس مقامات ہیں اور بھارت کی سکھ ننکانہ صاحب علاقے میں ہی سکھوں کے پہلے گرو گرو نانک کی پیدائش ہوئی تھی اور یہ سکھوں کے چند مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ فی الوقت بھارت اور پاکستان کے درمیان دلی، لاہور کے علاوہ سرینگر، مظفرآباد کے درمیان بسیں چل رہی ہیں۔ مستقبل میں جموں اور سیالکوٹ کے درمیان بس چلائے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے ۔ اکتوبر کے اوائل میں بھارت کے وزير خارجہ نٹور سنگھ ایک اعلی اختیاراتی وفد کے ہمراہ اسلام آباد جا رہے ہیں۔ اس وفد میں وزارت داخلہ ، دفاع اور مواصلات کے اعلیٰ اہلکار بھی شامل ہوں گے۔ اتحاد سازی کے جن پہلوؤں پر مفصل باتیں ہوں گی ان میں سیاچن گلیشئر سے فوجیں ہٹانے اور کشمیر کے پیچیدہ سوال پر خاص توجہ مرکوز کی جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||