لاہور، امرتسر بس سروس پر اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے نمائندوں نے کہا ہے کہ لاہور سے امرتسر کے درمیان بس سروس شروع کرنے پر اصولی طور پر اتفاق ہے اور جلد سے جلد بس سروس شروع کرنے پر دونوں ممالک کی بات چیت میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو اسلام آباد میں شروع ہونے والے دوروزہ مذاکرات کے پہلے اجلاس کے اختتام کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہی۔ جہاں منگل کو اسلام آباد میں لاہور سے امرتسر تک بس سروس شروع کرنے پر دو روزہ مذاکرات شروع ہوئے وہاں بھارت کے کوسٹ گارڈز اور پاکستان کی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے نمائندوں کے درمیان بھی دو روزہ بات چیت کا پہلا دور مکمل ہوا ہے۔ بھارت کی ٹرانسپورٹ کی وزارت کے جوائنٹ سیکریٹری الوک راوت کی سربراہی میں آئے ہوئے وفد نے پاکستان کی وزارت مواصلات کے ایڈیشنل سیکریٹری کی سربراہی میں میزبان وفد سے بات چیت کی۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے کہا کہ بات چیت کا آخری دور بدھ کو ہوگا اور امید ہے کہ بس سروس شروع کرنے کی تاریخ اور دیگر طریقہ کار پر اتفاق ہو جائے گا۔ مہمان وفد نے بعد میں پاکستان کے وزیر برائے مواصلات شمیم احمد سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک میں بس سروس کے آغاز سے جہاں دوستانہ تعلقات مضبوط ہوں گے وہاں معاشی ترقی بھی ہوگی۔ واضح رہے کہ دونوں ممالک نے حال ہی میں منقسم کشمیریوں کو سفری سہولیات دینے کے لیے سرینگر سے مظفرآباد تک بس سروس بحال کی تھی۔ اس وقت بھارت اور پاکستان کے درمیان دلی سے لاہور تک بس سروس چل رہی ہے جبکہ لاہور اور اٹاری کے درمیان ریل رابطہ بھی بحال ہے۔
پاکستان اور بھارت کھوکھرو پار سے مونا باؤ تک ریل رابطہ بحال کرنے پر پہلے ہی اصولی طور پر اتفاق کرچکے ہیں اور اس ضمن میں پاکستان کے ریلوے حکام میرپور خاص سے کھوکھرو پار تک ریل کی پٹڑی کو چھوٹے گیج سے بڑے گیج میں تبدیل کرنے کا کام شروع کر رکھا ہے۔ پاکستان ریلوے کے وزیر کہہ چکے ہیں کہ مونا باؤ کھوکھرو پار ریل رابطہ سن دوہزار چھ کے آغاز میں بحال ہوجائے گا۔ درین اثناء اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں وزارت دفاع میں’انڈین کوسٹ گارڈز‘ اور ’پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی‘ کے نمائندوں نے بھی دو روزہ بات چیت شروع کی ہے۔ پہلے روز کے اختتام پر تفصیلات تو نہیں بتائی گئیں البتہ یہ کہا گیا ہے کہ منشیات کی سمگلنگ کو روکنے، قدرتی آفات کی صورت میں تعاون کرنے اور معلومات کا تبادلہ کرنے کے بارے میں مختلف تجاویز پر بات چیت کی گئی ہے۔ پاکستانی وفد کی قیادت متعلقہ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ریئرایڈمرل بختیار محسن اور مہمان وفد کی سربراہی بھارتی کوسٹ گارڈز کے ڈائریکٹر جنرل وائیس ایڈمرل ارون کمار سنگھ کر رہے ہیں۔ بھارتی وفد نے وزارت دفاع کے ایڈیشنل سیکریٹری احسان الحق سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے موقع پر انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان غیرقانونی مچھلی کے شکار اور سمندری طوفان وغیرہ کی صورت میں ایک دوسرے کو معلومات دینا نہایت ضروری ہے۔ مہمان وفد کے سربراہ نے بھی ان سے اتفاق کیا اور کہا کہ بروقت معلومات کے تبادلے سے کسی بھی بڑی تباہی سے بچا جاسکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||