دس نئے راستے اور 35 بسوں کا عطیہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرِاعظم شوکت عزیز نے پاک افغان سرحد پر آمدورفت کےدس نئے راستے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں بلوچستان کے علاقے چمن سے افغانستان کے علاقے سپن بولدک تک ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے پر بھی کام ہو رہا ہے۔ وزیرِاعظم شوکت عزیز نے یہ اعلان اسلام آباد میں ایک تقریب میں کیا جس میں پاکستان کی طرف سے افغانستان کو پینتیس بسیں اور بیس ہزار سکول بیگ عطیے کے طور پر دیے گئے۔ اس موقع پر وزیرِاعظم شوکت عزیز نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ نئے زمینی اور ریل راستے کھولنے سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں اور تجارت کو فروغ ملے گا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ طورخم سے جلال آباد تک بنائی جانے والی سڑک سے بھی دونوں ممالک کے درمیان روابط میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کی طرف سے افغانستان کو پینتیس بسوں کا عطیہ اس ایک سو ملین ڈالر کی امداد کا حصہ ہے جو پاکستان نے افغانستان کی تعمیر نو کے لئے مختص کئے تھے۔پاکستان اس سال جون میں افغانستان کو پینسٹھ اور بسیں فراہم کرے گا۔ وزیرِاعظم شوکت عزیز نے پاکستانی تاجروں پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی تعمیر نو کے لیے افغانستان میں صنعتیں قائم کریں۔ اس موقع پر افغانستان کے وزیر برائے عوامی کام سہراب علی سفری نے اس عطیے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پچاس ہزار سے زائد پاکستانی افغانستان کی تعمیر نو میں حصہ لے رہیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||