دس طالبان ہلاک: افغان حکام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے پکتیا میں آج امریکی فوجی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی بمباری سے حکام کا کہنا ہے کہ دس سے زائد مشتبہ طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔ دو افغان سپاہی بھی اس واقعے میں زخمی ہوئے ہیں۔ افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے پکتیا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ بمباری امریکی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے گردیز سے تیس کلومیٹر جنوب میں شواک کے پہاڑی علاقے میں مشتبہ طالبان پر کی۔ افغان حکام کے مطابق اس سے دس سے زائد مشتبہ طالبان ہلاک ہوئے ہیں جن کی لاشیں قبضے میں لے لی گئیں ہیں۔ اس سے قبل اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد نے جن پر شک کیا جا رہا ہے کہ وہ طالبان تھے ایک سابق افغان فوجی اہلکار خیال باز شیرازی پر غزنی سے کابل جاتے ہوئے حملہ کیا۔ وہ تو اس حملے میں محفوظ رہے لیکن افغان حکام نے واپس لوٹ رہے مشتبہ طالبان کا پیچھا کرنے کے لیے امریکی فوج سے مدد طلب کی۔ امریکی فوج نے فورا ہیلی کاپٹر اور لڑاکا طیارے علاقے کو روانہ کئے جنہوں نے شواک کے پہاڑوں میں مشتبہ طالبان پر بمباری کر کے دس سے زائد کو ہلاک کر دیا۔ سابق افغان فوجی اہلکار پر حملے کی ذمہ داری ابھی کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||