امرتسر- لاہور، بس سروس مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کے درمیان ایک نئی بس سروس شروع کرنے کے بارے میں بات چیت شروع ہو گئی ہے۔ بھارتی دارالحکومت دلی میں آئندہ دو روز تک جاری رہنے والی بات چیت میں امرتسر۔ لاہور اور امرتسر۔ ننکانہ صاحب کے درمیان بس چلائے جانے سے متعلق تمام پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے ۔ بات چیت میں ہندوستان کی طرف سے وزارتِ خارجہ کے جؤائنٹ سکریٹری دلیپ سنہا اور پاکستان کی طرف سے وزارتِ اطلاعات کے ایڈیشنل سکریٹری محمد عباس اپنے وفود کی سربراہی کر رہے ہیں۔ اس سے قبل اس بارے میں بات چیت کا پہلا دور اسی برس مئی کے مہینے میں اسلام آباد میں ہو چکا ہے۔ لاہور اور ننکانہ میں سکھوں کے مقدس مقامات ہیں اور ہندوستان کی سکھ برادری ایک عرصے سے مطالبہ کر رہی ہے کہ امرتسر سے ان مقامات تک جانے کے لیے بس چلائی جائے۔ دونوں ممالک جلد سے جلد اس راستے پر بس سروس شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اس راستے پر بس سروس کی شروعات سے ہندوستانی سکھ برادری کے لوگ آسانی سے پاکستان میں ننکانہ صاحب کے درشن کر سکیں گے۔ ننکانہ صاحب علاقے میں ہی سکھوں کے پہلے گرو گرو نانک پیدا ہوئے تھے۔ فی الوقت ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دلی۔ لاہور کے علاوہ سرینگر۔ مظفرآباد کے درمیان بسیں چل رہی ہیں اور مستقبل میں جموں اور سیالکوٹ کے درمیان بس چلائے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے ۔ دوسری جانب ہندوستان کے شہری ہوا بازی کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں ایک وفد پاکستان پہنچا ہے۔ وہ پاکستان میں اپنے ہم منصب سے ملاقات کے دوارن دونوں ملکوں کے درمیان نجی ایرلائنز کی پروازيں شروع کرنے پر بات چیت کریں گے۔ ہندوستان نے تجویز پیش کی ہے کہ موجودہ پروازوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ نجی ایئر لائنز کی پروازوں کی بھی اجازت دی جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||