کچھ کشمیری کنٹرول لائن کے پار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے قبل بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے پاکستان جانے والے چوبیس کشمیری لائن آف کنٹرول پیدل کراس کر کے واپس اپنے گھروں کو چلے گئے۔ یہ افراد لائن آف کنٹرول پر کمان کراسِنگ پوائنٹ سے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں جمعرات کو داخل ہوئے۔ کمان ان پانچ مقامات میں سے ہے جہاں حال ہی میں دونوں حکومتوں نے کراسِنگ پوائنٹ بنایا ہے۔ اوڑی سیکٹر میں واقع کمان کراسِنگ پوائنٹ پر جب یہ چوبیس افراد پہنچے تو اس وقت ان کے ساتھ اقوام متحدہ کے دور آبزرور بھی تھے۔ اس موقع پر پاکستانی اور بھارتی فوجیوں نے زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے امداد کا تبادلہ کیا۔ پچہتر سالہ گلاب جان نے کمان کراسِنگ پوائنٹ پر پہنچنے پر بتایا: ’میں گھر واپس آنے کے لیے پریشان تھا لیکن سڑکیں نہیں تھیں، اس لئے مجھے انتظار کرنا پڑا۔‘ تانگدار کی رہائشی زرینہ نے مظفرآباد سے واپسی پر زلزلے کے بارے میں بتایا: ’میں خود کم سے کم چار گھنٹوں تک ملبے کے نیچے دب گئی تھی۔‘ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کی وجہ سے بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے جانے والے کم سے کم پچاس کشمیری پاکستان میں پھنس گئے تھے۔ ان میں سے کچھ واہگہ کے ذریعے پہلے ہی واپس گھر جاچکے ہیں۔ کمان کراسِنگ پوائنٹ پر موجود پاکستانی اہلکار شفیق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارتی جانب سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر جانے والے دو افراد زلزلے میں ہلاک ہوگئے جبکہ انیس لوگوں کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا ہے۔ شفیق احمد کا کہنا تھا: ’ہم نے ان کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے رشتہ داروں نے انہیں زلزلے کے بعد مظفرآباد سے کسی دوسری جگہ منتقل کردیا ہو۔‘ بھارت کے حکومتی ذرائع کے مطابق زلزلے سے قبل پاکستانی جانب سے آنے والے اٹھارہ لوگ اب بھی بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہیں۔ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بڑی تعداد میں لوگوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے اور امداد پہنچانے کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ | اسی بارے میں کشمیریوں کی فہرستوں کا تبادلہ14 November, 2005 | پاکستان کچھ کشمیری ایل او سی پار کریں گے17 November, 2005 | پاکستان پانچواں کراسنگ پوائنٹ کھل گیا16 November, 2005 | پاکستان ایل اوسی کھل گئی، کشمیری اب تک منتظر 14 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: سولہ ہزار تعلیمی ادارے متاثر14 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||