ایل او سی کھلنے کی خوشی، زلزلے کا دکھ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گو کہ ایک مد ت کے بعد کشمیر کو دوحصوں میں تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کا کھلنا عام کشمیریوں کے لیے کسی ایک خواب کی تعبیر سے کم نہ تھا، لیکن کہتے ہیں کہ ہر خوشی کی خبر کے ساتھ دکھ بھی جڑا رہتا ہے۔ اسی طرح یہ سال بھی اس خطے میں آئے المناک اور قیامت خیز زلزلے کے لیے بھی یاد رکھا جائے گا۔ بھارت کے زیرِانتظام جموں و کشمیرمیں رہنے والے لاکھوں لوگوں کی امیدیں اس وقت تازہ ہوئیں جب اس سال کی شروعات میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے نتیجے میں تاریخی سرینگر۔مظفرآباد سڑک کو عام لوگوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ کاروانِ امن بس سروس نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان کھنچی ہوئی نفرت کی دیواریں گرا دیں بلکہ یہ سلسلہ شروع ہونے سے برسوں سے بچھڑے ہوئے کئی خاندان بھی آپس میں مل سکے۔ اس سلسلے سے جہاں تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا وہیں دوسری طرف تقریباً چھپن سال کے لمبے وقفے کے بعد عام لوگ اس کنٹرول لائن کے آر پار آ جا سکے۔ کنڑول لائن کے کھولنے کو کچھ مبصرین نے دیوار ِبرلن کےگرنے سے مناسبت دی تو عام لوگوں نے اسے امن کی واپسی کے لیے پہلا قدم قرار دیا۔ سرحد کے دونوں طرف لوگوں کی آمد و رفت شروع ہی ہوئی تھی اور ریاست کے لوگ بدلتی فضا کی خوشیاں منا ہی رہے تھے کہ آٹھ اکتوبر آنے والے تباہ کن زلزلے نے ہزاروں لوگوں کی دنیا ہی بدل دی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں اس زلزلے سے تقریباً 24000 خاندان متاثر ہوئے، 975 افراد ہلاک اور 325 زخمی ہوئے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے ریاست میں 125 عورتیں بیوہ اور 390 بچے یتیم ہوئے۔ کئی ہزار رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا جب کہ تقریبا 1100 سکول کی عمارتیں بھی زلزلے کی زد میں آئیں۔ اس زلزلے نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ ہندوستان نے پاکستان کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے ریاست میں لائن آف کنٹرول پر پانچ امدادی مراکز کھول دیے۔ کشمیر کے اوڑی اور جموں کے پونچھ علاقوں میں کھولے گئے یہ مرا کز اب بھی قائم ہیں لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر ان جگہوں سے عام لوگوں کی آمدورفت زیادہ بڑے پیمانے پر شروع نہیں ہو پائی۔ ایک فوجی ترجمان کے مطابق اس سال سرحد پار سے دراندازی کے واقعات میں کچھ کمی تو آئی لیکن یہ صرف سرحد پرلگائی گئی باڑ کی وجہ سے ممکن ہوا۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال شدت پسندی کے مختلف واقعات میں ایک ہزار چار سو ایک افراد کی جان گئی جن میں چار سو دو عام شہری، آٹھ سو چونتیس شدت پسند اور ایک سو پینسٹھ فوجی شامل ہیں۔ اسی سال ریاست میں شدت پسندوں کی طرف سے کی گئی سب سے بڑی واردات میں ریاستی وزیرِ تعلیم غلام نبی لون کو کچھ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر دن دہاڑے گولی مار کر ہلاک کر دیا- ریاست میں سیاسی جماعت کانگرس کے لیے یہ سال سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ تیس سال کے لمبے وقفے کے بعد غلام نبی آزاد کی قیادت میں کانگرس نے ریاستی حکومت کی باگ دوڑ سنبھالي۔ اور دو نومبر کو آزاد سابق وزیراعلٰی مفتی محمد سعید کے بعد ریاست کے دسویں وزیرِ اعلٰی بنے۔ اسی سال ریاستی سرکار نے رشوت خور سرکاری ملازموں سے نپٹنے کے لیے احتساب کمیشن کا بھی آغاز کیا۔ سال 2005 میں علیحدگی پسند جماعت حریت کانفرنس اور مرکز کے بیچ بات چیت دوبارہ شروع ہوئی۔ میر واعظ عمرفاروق کی قیادت میں حریت رہنماؤں نے پہلے مرحلے کی بات چیت مکمل ہو چکی ہے جب کہ دوسرا مرحلہ نئےسال کے ابتدائی مہینوں میں ہونے کے امکانات ہیں۔ | اسی بارے میں ایل او سی کھلی، کوئی نہیں آیا05 December, 2005 | انڈیا ایل او سی کا ’فلاپ ڈرامہ‘12 November, 2005 | انڈیا پہلاگروپ ایل او سی کے پار19 November, 2005 | انڈیا ایل او سی: امدادی مراکز کی تیاریاں 24 October, 2005 | انڈیا برسوں بعد کشمیریوں کے رابطے19 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||