کیا کشمیروں سے کسی نے پوچھا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی حکمران جماعت کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں مفتی محمد سعید کی قیادت والی حکومت اب کانگریس سنبھالی گی جس کی بابت تین سال قبل ریاستی انتخابات کے بعد پی ڈی پی اور کانگریس کے درمیان سمجھوتہ ہوا تھا۔ نئی حکومت کی قیادت کانگریس کے مرکزی رہنما غلام نبی آزاد کریں گے۔ کانگریس کی ترجمان امبیکا سونی نے دل میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اسمبلی کے اراکین کے ساتھ اجلاس کے بعد یہ فیصلہ پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے کیا۔ واضح رہے کہ کشمیر کے معاملے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان بحال امن کی بات چیت مفتی دور میں شروع ہوئی تھی اور کشمیری علحیدگی پسندوں کو مذاکرات میں شامل کرنے کا سہرا بھی مفتی حکومت کے سر جاتا ہے۔ عوام کا ایک بڑا حلقہ حیران ہے کہ ایسے وقت جب حالیہ زلزلے سے متاثرہ خاندان انتظامیہ میں استحکام کی امید کر رہے ہیں اور پھر بحالئی امن کی کوششوں کو مفتی سرکار کی جانب سے جو ساز گار ماحول ملا ہے، مفتی سیید کو اقتدار سے ہٹانا کانگریس کی ایک اور بڑی غلطی ثابت ہوسکتی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق سونیا گاندھی اور وزیراعظم من موہن سنگھ مفتی سعید کو اپنے عہدے پر برقرار رکھنا چاہتے تھے مگر ریاست کے کانگریس اراکین اسمبلی نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا کر اجتماعی طور پر مستعفی ہونے کی دھمکی دی تھی۔ غلام نبی آزاد نے کئی بار اشارہ دیا تھا کہ وہ ریاستی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہتے ہیں لیکن بعض مبصرین کا خیال ہے کہ وہ مرکزی سیاست سے ہٹنا نہیں چاہتے ہیں جہاں انہوں نے اپنی پوزیشن بڑی مظبوط بنائی ہے۔ اب وہ خود مرکز سے ہٹے ہیں یا ان کے خلاف لابی نے انہیں ہٹایا ہے یہ ابھی تک صیغۂ راز میں ہے۔ مفتی سعید نے تین سال قبل جب بڑی مدت تک مرکز میں رہنے کے بعد کشمیر میں اقتدار سنبھالا تھا تو کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ وہ عوام میں اپنے لۓ ایک خاص مقام بنایں گے کیونکہ مرکزی وزیر دفاع کے دوران کشمیری ان کے شدید ناقد بنے تھے۔ چند ماہ گذرنے کے بعد ہے انہوں نے نہ صرف کشمیر میں کسی حد تک بہتری لائی بلکہ انتظامیہ میں بہتری کے ساتھ ساتھ استحکام بھی پیدا کیا اور بعض علیحدگی پسند حلقوں پر بھی اپنا اثر قائم کیا۔ ان کی کامیابی اس بات میں مضمر ہے کہ انہوں نے کبھی پاکستان کے خلاف بیان نہیں دیا اور نہ علیحدگی پسند تحریک کے خلاف بلکہ بیشتر مرتبہ حکومتِ بھارت سے بحالئی امن کے مذاکرات میں کشمیری رہنماؤں کی شمولیت پر زور دیا حالانکہ انہیں بیشتر کشمیری پکا ہندوستانی تصور کرتے ہیں۔ غلام نبی آزاد کا تعلق جموں سے ہے۔ وہ کشمیری بولتے ہیں لیکن انہیں بھی کشمیری کٹر بھارتی سمجھتے ہیں ۔ کیا کشمیری انہیں بحثیت وزیراعلیٰ قبول کریں گے اس سوال کا جواب مستقبل قریب میں مل ہی جائے گا لیکن مبصرین کے نزدیک جو سوال تشنۂ جواب ہے وہ یہ کہ ’کیا آج تک کشمیریوں سے کسی نے پوچھا ہے‘ | اسی بارے میں مفتی سعید کی جگہ غلام نبی آزاد27 October, 2005 | انڈیا علیحدگی پسند کشمیری دِلّی میں 04 September, 2005 | انڈیا برسوں بعد کشمیریوں کے رابطے19 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||