مصوری، شاہی شادی اور صدر بش کے کھانے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزارت خارجہ کی اپنی عمارت مختلف عمارتوں میں دفاتر کے بعد بالآخر وزارت خارجہ کی ایک اپنی عمارت کی تعمیر شروع ہو گئی ہے۔گزشتہ دنوں وزیراعظم منموہن سنگھ نے مولانا آزاد روڈ پر مجوزہ عمارت کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس عمارت کا نام جواہر لعل نہرو بھون ہوگا اور یہ تقریبا تین برس میں تعمیر ہوگی۔ خارجہ امور کی وزارت کے مختلف دفاتر اکبر بھون، شاستری بھون اور پٹیالہ ہاؤس میں کام کرتے ہیں۔ نئی عمارت کی تعمیر کے بعد یہ تمام محکمے اس عمارت میں منتقل ہو جائیں گے۔ نئی عمارت پر کام شرع کرانے میں نٹور سنگھ کا بہت بڑا ہاتھ تھا جو چند مہینے پہلے تک وزیر خارجہ تھے لیکن اب یہ وزارت وزيراعظم کے پاس ہی ہے۔ وی پی سنگھ کی مصوری سابق وزيراعظم وی پی سنگھ ایک اچھے مصور ہیں۔ ان کی مصوری کی پچھلے دونوں دلی میں ایک نمائش ہوئی۔ مصوری اور شاعری دونوں ہی ان کے شوق ہیں۔ مسٹر سنگھ کہتے ہیں کہ ’ کاش میں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مصوری کو دیا ہوتا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ میں ایک سیاست داں سے کہيں بہتر ایک مصور ثابت ہوتا‘۔ مسٹر سنگھ 90-1989 میں وزير اعظم بنے تھے۔ انہوں نے ملازمتوں میں پسماندہ ذاتوں کے حصے کے لیے منڈل کمیشن کی سفارشات نافذ کی تھیں جس پر پورے ملک میں اعلی ذات کے ہندوؤں نے زبردست احتجاج کیا تھا۔ انہیں کے دور میں ایک کے اڈوانی نے بابری مسجد کے خلاف مہم چلائی تھی۔ مسٹر سنگھ کو کینسر ہے اور انہيں ہر ہفتے ڈائیلیسس سے گزرنا پڑتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ’میں ہر لمحے کے لیے خدا کا شکر گزار ہوں، بجائے اس کے میں اپنی بیماری کے نتائج کے بارے میں سوچوں میں بـچے ہوئے ہر لمحے کو استعمال کرنا چاہتا ہوں‘۔ صدر بش کا دسترخوان امریکہ کے صدر جارج بش یکم مارچ کو ہندوستان پہنچيں گے۔ ان کے دورے کے لیے ابھی سے سکیورٹی کے انتظامات شروع کر دیے گئے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ان کے دستر خوان کی بھی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ انہيں ہندوستانی کھانے نہ صرف پسند ہیں بلکہ ان کے بارے میں وہ خاصی معلومات بھی رکھتے ہيں۔ وہ موریہ شریٹن ہوٹل میں قیام کريں گے۔ ہوٹل کو وائٹ ہاؤس سے ایک فہرست موصول ہوئی ہے۔ ہوٹل کے اسٹار کک امتیاز قریشی صدر کے کھانے کے انچارج ہوں گے۔ اور دستر خوان پر کئی طرح کے کبابوں کے علاوہ بریانی، حیدرآبادی ڈشز میں کھٹے بیگن کے علاوہ دال اور جنوبی ہندوستان کے کھانے ہوں گے۔ صدر بش اپنی جوانی کے دنوں میں دلی میں دو مہینے رہ چکے ہیں اور اس وقت کے کھانوں بھولے نہیں ہیں۔ انکم ٹیکس والے دیکھ رہے ہيں ٹیکس کی چوری کرنے والوں پر انکم ٹیکس والوں کا شکنجہ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ اب اگر آپ مہنگی پینٹنگ خرید رہے ہوں، ہوم تھیٹر یا پھر پلازما ٹی وی۔ اگر آپ ان کی قیمت کیش میں ادا کر يں گے تو ٹیکس والوں کی طرف سے آپ کو نوٹس مل سکتا ہے کہ برائے مہربانی آپ اپنا ریٹرن فائل کر ديں۔ انکم ٹیکس کا محکمہ انہيں بھی نوٹس بھیجے گا جن کے کریڈٹ کارڈ پر دو لاکھ روپے سے زیادہ کی خریداری کی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ لوگ بھی اس دائرے میں آئيں گے جنہوں نے بینک میں دس لاکھ یا اس سے زيادہ رقم جمع کر رکھے ہیں۔ ہندوستان ميں ٹیکس کے نظام میں خامی کے سبب ان افراد کی اکثریت جنہیں ٹیکس دینا چاہیے ٹیکس کے دائرے میں نہیں آ پاتی ہے لیکن اصلاحات کے بعد اب بعض ایسے اقدامات کیے گئے ہیں کہ آئندہ دو تین برس میں کوئی بھی ٹیکس کی گرفت سے بچ نہیں پائے گا۔ شاہی شادی امریکہ کے کروڑ پتی بزنسمین وکرم چٹوال اور ہندوستانی فیشن ماڈل پریا سچدیو کی شادی کی مختلف رسومات چار دن تک جاری رہیں۔ اس شادی میں دنیا بھر کے ٹاپ بزنس مین شریک ہوئے ۔ شرکت کرنے والوں ميں اسٹیل انڈسٹری کے ارب پتی لکشمی متل بھی شامل تھے۔ تقریبا 400 مہمانوں نے شادی میں شریک ہونے کے لیے اپنے اپنے نجی ہوائی جہازوں کا استعمال کیا۔جبکہ شادی کا پنڈال سجانے کے لیے بینکاک اور سنگاپور سے پھول منگوائے گئے۔ شادی کے انتظامات سال دوہزار چار میں اسٹیل ٹائیکون لکشمی متل کی بیٹی کی شادی کی یادیں تازہ کر رہے تھے جس میں انہوں نے چھ کروڑ امریکی ڈالر خرچ کیے تھے۔ |
اسی بارے میں ہندوستان تیسری بڑی معیشت29 January, 2006 | انڈیا عدلیہ و پارلیمنٹ دلی میونسپلٹی اور بندر22 January, 2006 | انڈیا نیپکن کا تکیہ اور بھارتیوں کیلیے ویاگرا اور بالغ فلمیں 25 December, 2005 | انڈیا وزارتِ خارجہ پریشان، شاکی عوام، بنگالورو، دوگنے ارب پتی 18 December, 2005 | انڈیا اڈوانی کی مشکلات،امیتابھ کا اوپرا11 December, 2005 | انڈیا لالو کی گائیں، نٹور پریشان، اُما کاغُصّہ04 December, 2005 | انڈیا ہوائی اڈوں کی نج کاری کا مسئلہ05 February, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||