غیر محفوظ دِلی، تاج محل کےلیے ابٹن اور کار میں ٹی وی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غیر محفوظ دِلی نئے سال کے پہلے ہفتے میں آبروریزی کے متعدد واقعات سے دارالحکومت دلی دہل گیا۔ پورے ہفتے کہیں کار میں تو کہیں ٹرک میں یا پھر بہلا پھسلا کر ہوٹل میں خواتین کی عزت و ناموس سے کھلواڑ ہوتا رہا۔ پے در پے ایسے واقعات سے لوگ ششدر ہیں اور چہ مہ گوئیاں ہو رہی ہیں کہ خواتین کہیں محفوظ بھی ہیں یا پھر درندگی اپنی پوری حدیں پار کرچکی ہے۔ نئے سال کی آمد میں جس رات جشن کا ماحول تھا اس رات کی صبح دلی کے مصروف ترین سڑک کے کنارے دو خواتین عریاں حالت میں بے ہوش پائی گئیں۔ ایک کار میں رات بھر ان کی عصمت دری کی گئی پھر انہیں سڑک کے کنارے پھینک دیا گیا۔ ابھی یہ خبر گرم ہی تھی کہ دلی کے مضافات غازی آباد میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ سامنے آیا۔ پولیس ابھی اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش میں ہی تھی کہ ایک تیسرے واقعے سے لوگ حیرت میں پڑ گئے۔ کام پر جا رہی بعض خواتین کو چند لفنگوں نے جیپ میں لفٹ دی اور راستے میں ان کے ساتھ چھیڑ خانی شروع کردی۔ دو خوتین تو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں لیکن ایک لڑکی پھنس گئی اور پھر جو اسکے ساتھ ہوا وہ ایک دردناک کہانی ہے۔ دلی کی گلیاں ہوں یا شاہراہیں ہر جگہ عدم تحفظ کا احساس ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے اور دلی کے باسی ان واقعات سے سکتے میں ہیں۔ پولیس کمشنر کے کے پال کا کہنا ہے کہ آبروریزی ایک سنگین جرم ہے لیکن یہ امن و قانون سے کہیں زیادہ یہ ایک سماجی مسئلہ ہے اس لیے اس پر قابو پانا آسان نہیں ہے۔ کار میں ٹی وی دیکھنا کیسا ہے؟ شعبہ اطلاعات و نشریات کے حکام اور دلی پولیس کے درمیان اس بات پر بحث و تکرار جاری ہے کہ آیا کاروں میں ٹیلیویژن نصب کرنا درست ہے یا ٹریفک قوانین کے منافی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کار میں ٹی وی لگنے سے ڈرائیور کی توجہ سڑک سے ہٹ جائےگی جس سے حادثات کا خطرہ ہے۔ لیکن سرکاری ٹی وی چینل [پرسار بھارتی] کے افسران کا کہنا ہے کہ یہ پیچھے کی سیٹ پر بیٹھنے والوں کے لیے ہے۔
سرکاری نیوز چینل ڈی ڈی کی طرف سے ایک اشتہار میں کہا گیا ہے کہ ’نیو ڈیجیٹل ٹرسٹیرئل ٹرانسمیٹر‘ کے ذریعے کار میں سفر کرتے ہوۓ بھی ٹی وی کا لطف اٹھایا جاسکتا ہے۔ ڈی ڈی نےکار میں براہِ راست پروگرام کی نشریات کا وعدہ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی میں موبائل فون کی اجازت نہیں ہےاور ٹی وی کی تو قطعی طور اجازت نہیں دی جائےگی لیکن پرسار بھارتی اپنے فیصلے پر اٹل ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کئی ممالک میں یہ سہولت میسر ہے اورگاڑی چلاتے وقت ڈرائیور کو ٹی وی دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر لائیو نیوز دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاج محل کے لیے ابٹن؟
حکام کا کہنا ہے کہ تاج محل کے لیے ملتانی مٹی سب سے بہتر ابٹن ہے اور پوری طرح معائنے کے بعد پوری عمارت پر اسے پوتا جائےگا۔ ایک ہفتے تک یہ مٹّی تاج کی دیواروں پر لگی رہےگی اور پھر یا تو وہ خود جھڑ جائیگی یا اسے پانی سے صاف کر دیا جائےگا۔ اس عمل سے تاج محل کے سنگ مرمر کی چمک ایک بار پھر جگمگا اٹھے گی۔ اطلاعات کے مطابق اس پر کام شروع ہونے والا ہے۔ پٹرول کا احتیاطی ذخیرہ ہندوستان کی حکومت نے پچاس لاکھ ٹن پٹرول کا ذخیرہ تعمیر کرنے کی منظوری دی ہے۔ پٹرول کے یہ ذخیرے تقریبا تین ارب ڈالر کی مالیت سے کیرالہ، کرناٹک اور راجستھان میں تعمیر کیے جائیں گے۔ حکومت نے اس طرح کا ذخیرہ تعمیر کرنے کا فیصلہ پٹرول کی قیمتوں میں اچانک اضافے یا کسی قدرتی آفات یا جنگ کے دوران پٹرول کی در آمد میں رکاوٹ آنے کی صورت میں تیل کی قلت کا سامنا کرنے کے لیے کیا ہے۔
اس طرح کے احتیاطی ذخیرے امریکہ اور دیگر ممالک میں پہلے سے موجود ہیں۔ ہندوستان میں ابتدائی طور پر یہ ذخیرہ پندرہ روز کی سپلائی کے لیے کافی ہوگا۔ بعد میں اسے بڑھاکر پینتالیس دنوں تک کے لیے تعیمر کیا جائےگا۔ موبائل کا جادو ہندوستان دنیا کے چند ان ملکوں میں شامل ہے جہاں موبائل کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دو ہزار پانچ میں ملک بھر میں ڈھائی کروڑ موبائل فون تھے۔ گزشتہ برس ہندوستانیوں نے تین ارب ڈالر سے زیادہ رقم موبائل خریدنے پر صرف کی تھی۔
ملک میں موبائل کے سو سے زیادہ ماڈل دستیاب ہیں اور اب یہ محض بات چیت کے لیے نہیں بلکہ ٹارچ، ٹی وی سے لیکر انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل کیمرے تک لیے کثرت سےاستعال کیے جاتے ہیں۔ شاباش دِلی مے نوشی کے لیے یوں تو ہریانہ مشہور رہا ہے جہاں لوگ کئی ارب روپے کی شراب پی جاتے ہیں لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ دلی انہیں پیچھے چھوڑ گئی ہے۔ نئے سال والے ہفتے میں دلی کے مے نوشوں نے تقریبا ستائیس کروڑ روپے کی شراب پی اور دسمبر کے مہینے میں دلی میں سو کروڑ یعنی ایک ارب روپے کی شراب پی گئی تھی۔ حکومت کو سن دو ہزار پانچ میں شراب کی فروخت سے 759 کروڑ روپیۓ کی آمدنی ہوئی ہے۔ اس برس ایک ہزار کروڑ یا دس ارب روپے کی فروخت کا ہدف رکھا گیا ہے۔ دلی میں شراب کی فروخت خود حکومت کرتی ہے اور ساتھ ہی شراب کی بوتلوں سمیت یہ نعرہ بھی جگہ جگہ لکھواتی ہے کہ ’شراب جسم اور روح دونوں کو کھوکھلا کرتی ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||