BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 December, 2005, 09:34 GMT 14:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزارتِ خارجہ پریشان، شاکی عوام، بنگالورو، دوگنے ارب پتی

پاک اسرائیل تعلقات
پاک اسرائیل تعلقات بھارت کے لیے باعثِ تشویش ہیں
مشرف کی ’سمارٹ موو‘، وزارتِ خارجہ پریشان

منموہن سنگھ کی حکومت کے ابتدائی مہینوں ميں قدرے سرد مہری کے بعد اسرائیل سے تعلقات پر ایک بار پھر خصوصی توجہ دی جانے لگی ہے۔
وزارتِ خارجہ ان دنوں اسرائیل کے ہر قدم پر نظر رکھ رہی ہے اور وقتاً فوقتاً بیانات بھی جاری کر رہی ہے۔ یہ اچانک تبدیلی حالیہ دنوں میں پاکستان کے اسرائیل سے بڑھتے ہوئے رابطے کے نتیجے میں آئی ہے۔ واجپئی حکومت کے دوران اسرائیل سے تعلقات بہت تیزی سے بڑھے تھے اور وہ ہندوستان کو دفاعی سازو سامان فراہم کرنے والا ایک اہم ملک بھی بن گیا تھا لیکن کانگریس کی حکومت آنے کے بعد عرب ممالک سے بہتر تعلقات کی پالیسی دوبارہ بحال کر دی گئی۔ لیکن اب وزارت خارجہ میں اسرائیل سے رابطے بڑھانے کے سلسلے میں صدر پرویز مشرف کے اقدامات کو’اسمارٹ موو‘ مانا جا رہا ہے اور سفارتی حلقوں میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان اس سلسلے میں زبردست سفارتی بازی مار سکتا ہے۔

عدلیہ پر بھی شک

نو دسمبر کو ارکان پارلیمان کے رشوت لینے کا معاملہ سامنے آنے سے ایک روز قبل ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے ہندوستان میں بدعنوانی سے متعلق ایک سروے جاری کیا۔اس رپورٹ کے مطابق عوام کو اندیشہ ہے کہ اگر فوری طور پر موثر اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ برسوں میں بدعنوانی میں مزید اضافہ ہوگا۔

مدراس ہائی کورٹ کی عمارت کا ایک منظر

سروے کے مطابق 99 فی صد لوگ یہ مانتے ہیں کہ پولیس کرپٹ ہے۔ 98 فی صد عوام سیاست دانون کو بےایمان سمجھتے ہیں اور سب سے زیادہ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ 97 فی صد لوگوں نے عدلیہ کو بھی بد عنوان مانا ہے۔ عوام فوج کو سب سے کم بد عنوان ادارہ مانتی ہے۔ سروے کے مطابق 12 فیصد لوگوں کو گزشتہ برس رشوت دینی پڑی ہے۔

بنگلور اب بنگالورو

ہندوستان کی ’سلیکن ویلی‘ بنگلور کا نام جلد ہی بنگالورو ہونے والا ہے۔ کرناٹک کی حکومت نے اصولی طور پر شہر کے اس پرانے نام کی منظوری دی ہے اور کابینہ میں منظوری ملنے کے بعد اسے مرکزی حکومت کو بھیج دیا جائے گا۔
شہر کی ایک بڑی اکثریت بنگلور کا نام بدلنے کے خلاف ہے۔ اس سے پہلے بومبے کو ممبئي۔ کلکتہ کو کولکتہ اور مدراس کو چنئی کیا جا چکا ہے۔

بنگلور کو بھارت کی ’سلیکن ویلی‘ کہا جاتا ہے

اتر پردیش ميں بھی ہندو نواز تنظیمیں ایک عرصے سے فیض آباد کا نام ساکیت ، علیگڑھ کو ہری نگر اور لکھنؤ کو لکشمن پور میں بدلنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ جس طرح شہروں کے نام قدیم اور کئی بار تصوراتی ناموں سے بدلے جا رہے ہیں ہو سکتا ہے کہ کچھ دنوں میں دلی کا نام اندر پرستھ ہو جائے۔

ارب پتیوں کی آبادی میں اضافہ

ہندوستان میں ارب پتیوں کی تعداد گزشتہ ایک برس میں دوگنی ہوگئی ہے۔ فوربس میگزین نے جو فہرست جاری کی ہے اس کے مطابق ایسے ہندوستانی ارب پتیوں کی تعداد جن کی حیثیت ایک ارب ڈالر یا ساڑھے چار ہزار کروڑ روپے سے زیادہ ہےگزشتہ سال تیرہ تھی لیکن اس برس یہ تعداد بڑھ کر 27 ہوگئی ہے۔

دنیا کے امیر ترین بھارتی لکشمی متل

میگزین نے ہندوستان کے چالیس امیر ترین لوگوں کی مجموعی حیثیت ایک سو چھ ارب ڈالر بتائی ہے۔ لندن میں مقیم لکشمی متّل سب سے امیر ہندوستانی ہیں۔ وہ اسٹیل کی دنیا کے سب سے بڑے سرمایہ کار ہیں۔ فہرست میں دوسرے نمبر پر بنگلور کے عظیم پریم جی ہیں۔ ان کی ذاتی دولت گیارہ ارب ڈالر ہے۔ عظیم پریم جی وائپرو کمپنی کے مالک ہیں جو ہندوستان میں سافٹ وئر بر آمد کرنے والی تیسری بڑی کمپنی ہے۔ سات ارب ڈالر اور ساڑھے پانچ ارب ڈالر کے ساتھ مکیش امبانی اور انیل امبانی تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔

تاج محل کس کا

مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے جب اپنی چہیتی ملکہ ممتاز محل کے لیے ایک حسین مقبرہ تعمیر کریا تھا تو شاید انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ یہ مزار کبھی ملکیت کا تنازعہ بن جائيگا۔

دنیا بھر کے سیاح تاج محل کی سیر کرنے آتے ہیں

گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے حیدرآباد کے یعقوب حبیب الدین طوسی کی یہ درخواست مسترد کردی کہ انہیں تاج محل کا متولی مقرر کیا جاۓ ۔ طوسی کا دعوٰی ہے کہ وہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے ہیں اس لیے صرف انہیں متولی بننے کا حق حاصل ہے۔ گزشتہ آٹھ جون کو وقف بورڈ نے تاج محل کو قبرستان بتاکر اسے اپنی ملیکت قرار دیا تھا اور ایک متولی مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا مگر سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت کی مداخلت سے یہ عظیم یادگار وقف بورڈ کے ہاتھوں میں جانے سے بچ گئی ۔

66دلی ڈائری
اڈوانی کی مشکل اور امیتابھ کا سوپ اوپرا
66دِلیّ کی ڈائری
لالو کی گائیں، نٹور پریشان، اُما کاغُصّہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد