وزارتِ خارجہ پریشان، شاکی عوام، بنگالورو، دوگنے ارب پتی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف کی ’سمارٹ موو‘، وزارتِ خارجہ پریشان منموہن سنگھ کی حکومت کے ابتدائی مہینوں ميں قدرے سرد مہری کے بعد اسرائیل سے تعلقات پر ایک بار پھر خصوصی توجہ دی جانے لگی ہے۔ عدلیہ پر بھی شک نو دسمبر کو ارکان پارلیمان کے رشوت لینے کا معاملہ سامنے آنے سے ایک روز قبل ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے ہندوستان میں بدعنوانی سے متعلق ایک سروے جاری کیا۔اس رپورٹ کے مطابق عوام کو اندیشہ ہے کہ اگر فوری طور پر موثر اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ برسوں میں بدعنوانی میں مزید اضافہ ہوگا۔
سروے کے مطابق 99 فی صد لوگ یہ مانتے ہیں کہ پولیس کرپٹ ہے۔ 98 فی صد عوام سیاست دانون کو بےایمان سمجھتے ہیں اور سب سے زیادہ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ 97 فی صد لوگوں نے عدلیہ کو بھی بد عنوان مانا ہے۔ عوام فوج کو سب سے کم بد عنوان ادارہ مانتی ہے۔ سروے کے مطابق 12 فیصد لوگوں کو گزشتہ برس رشوت دینی پڑی ہے۔ بنگلور اب بنگالورو ہندوستان کی ’سلیکن ویلی‘ بنگلور کا نام جلد ہی بنگالورو ہونے والا ہے۔ کرناٹک کی حکومت نے اصولی طور پر شہر کے اس پرانے نام کی منظوری دی ہے اور کابینہ میں منظوری ملنے کے بعد اسے مرکزی حکومت کو بھیج دیا جائے گا۔
اتر پردیش ميں بھی ہندو نواز تنظیمیں ایک عرصے سے فیض آباد کا نام ساکیت ، علیگڑھ کو ہری نگر اور لکھنؤ کو لکشمن پور میں بدلنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ جس طرح شہروں کے نام قدیم اور کئی بار تصوراتی ناموں سے بدلے جا رہے ہیں ہو سکتا ہے کہ کچھ دنوں میں دلی کا نام اندر پرستھ ہو جائے۔ ارب پتیوں کی آبادی میں اضافہ ہندوستان میں ارب پتیوں کی تعداد گزشتہ ایک برس میں دوگنی ہوگئی ہے۔ فوربس میگزین نے جو فہرست جاری کی ہے اس کے مطابق ایسے ہندوستانی ارب پتیوں کی تعداد جن کی حیثیت ایک ارب ڈالر یا ساڑھے چار ہزار کروڑ روپے سے زیادہ ہےگزشتہ سال تیرہ تھی لیکن اس برس یہ تعداد بڑھ کر 27 ہوگئی ہے۔
میگزین نے ہندوستان کے چالیس امیر ترین لوگوں کی مجموعی حیثیت ایک سو چھ ارب ڈالر بتائی ہے۔ لندن میں مقیم لکشمی متّل سب سے امیر ہندوستانی ہیں۔ وہ اسٹیل کی دنیا کے سب سے بڑے سرمایہ کار ہیں۔ فہرست میں دوسرے نمبر پر بنگلور کے عظیم پریم جی ہیں۔ ان کی ذاتی دولت گیارہ ارب ڈالر ہے۔ عظیم پریم جی وائپرو کمپنی کے مالک ہیں جو ہندوستان میں سافٹ وئر بر آمد کرنے والی تیسری بڑی کمپنی ہے۔ سات ارب ڈالر اور ساڑھے پانچ ارب ڈالر کے ساتھ مکیش امبانی اور انیل امبانی تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔ تاج محل کس کا مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے جب اپنی چہیتی ملکہ ممتاز محل کے لیے ایک حسین مقبرہ تعمیر کریا تھا تو شاید انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ یہ مزار کبھی ملکیت کا تنازعہ بن جائيگا۔
گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے حیدرآباد کے یعقوب حبیب الدین طوسی کی یہ درخواست مسترد کردی کہ انہیں تاج محل کا متولی مقرر کیا جاۓ ۔ طوسی کا دعوٰی ہے کہ وہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے ہیں اس لیے صرف انہیں متولی بننے کا حق حاصل ہے۔ گزشتہ آٹھ جون کو وقف بورڈ نے تاج محل کو قبرستان بتاکر اسے اپنی ملیکت قرار دیا تھا اور ایک متولی مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا مگر سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت کی مداخلت سے یہ عظیم یادگار وقف بورڈ کے ہاتھوں میں جانے سے بچ گئی ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||