ہندوستان تیسری بڑی معیشت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اس برس دنیا کی ایک بڑی معیشت بن جائيگا۔ کی سٹون انڈیا کے چیف اکانومسٹ ڈاکٹر ولیم ٹی ولسن نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ہندوستان 2006 میں چار ہزار ارب ڈالر کے نشان کو پار کر لے گا۔ یہ اندازہ لوگوں کی قوت خرید کے موازانے کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔ امریکہ اور چین دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں ہیں۔ تیسرے نمبر پر جاپان ہے۔ ہندوستان میں موبائل، آٹو موبائل، بنیادی ڈھانچے اور ہاؤزنگ سیکٹر میں بہت تیزی سے ترقی ہورہی ہے۔ گزشتہ چار برس سے ہندوستان کی معیشت اوسطاً سات فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی ہے جو بہت اونچی شرح سمجھی جاتی ہے۔ کشمیر کے بارے میں خفیہ مذاکرات گزشتہ ہفتوں میں وزیر اعظم کے دفتر نےجے کے ایل ایف کے رہنما یاسین ملک سمیت کشمیر کے کئی رہنماؤں سے خاموشی سے بات چیت کی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق یاسین ملک نے 28 نومبر کو امریکہ روانہ ہونے سے قبل وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی تھی۔ اسی طرح گزشتہ ہفتے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائن نے امریکہ میں واقع کشمیر سٹڈی گروپ کے سربراہ فاروق کٹھواری سے مفصل تبادلہ خیال کیا۔ باور کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کشمیر کے حل سے متعلق کئی تجاویز پر بات کی ہے۔ وزیر اعظم نے امریکہ میں مقیم سرگرم کشمیری پنڈت وجے سازوال سے بھی حال میں ملاقات کی ہے۔ حال ہی میں سید علی شاہ گیلانی کو بھی کافی عرصے بعد ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی اور وہ حج کے لیے سعودی عرب گئے جہاں انہوں نے حزب المجاہدین کے رہنماؤ ں سے ملاقات کی۔
وہاں انہوں نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور جلاوطن رہنما نواز شریف سے بھی انکی رہائش گاہ پر ملاقات کی جہاں کئی دیگر کشمیری رہنما بھی مدعو تھے۔ تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ جے کے ایل ایف کے رہنما یاسین ملک اور ایک دیگر علیحدگی پسند رہنما شبّیر شاہ سے باقاعدہ مذاکرات کی تیاری ہورہی ہے۔ شادی کا فیصلہ والدین ہی کریں گے ہندوستان میں لگتا ہے کہ اب بھی کچھ باتیں نہیں بدلیں ۔ پچھلے دنوں سی این این آبی این ٹی وی چینل نے ملک گیر سطح پر معاشرتی اقدار کا جائزہ پیش کیا۔ اس سروے کے مطابق 72 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ شادی کے معاملے میں آخری فیصلہ ماں باپ کا ہی ہو نا چاہیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 74 فیصد لوگ یہ مانتے ہیں کہ ذات سے باہر شادی نہیں ہونی چاہیے جبکہ 34 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ بلدتے ہوئے معاشرے میں شادی غیر مذہب میں بھی ہونی چاہیے۔
جائزے کے مطابق پڑھے لکھے شہری لوگوں میں 69 فیصد لوگ روز پوجا کرتے ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں رہنے والے غیر تعلیم یافتہ لوگوں میں صرف 43 فیصد لوگ ہی پوجا کرتے ہيں۔ یونیورسٹی یونین اور الیکشن کمیشن ملک میں انتخابات کرانے کے لیے انتخابی کمیشن کا ہونا تو لازمی ہے لیکن یونیورسٹیوں کے سٹوڈنٹ یونین کے انتخابات کے لیے سابق چیف الیکشن کمشنر سے مدد مانگنا ضرور عجیب سا لگتا ہے۔ لیکن اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔ یونیورسٹیوں کے طلبا یونین کے انتخابات میں دولت اور جرائم کی اتنی آمیزش ہو گئی ہے کہ سپریم کورٹ تک کو تشویش ہے۔ عدالت ہی کی ہدایت پر اس ہفتے حکومت نے سابق چیف الیکشن کمشنر ایم لنگڈو کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو سٹوڈنٹ یونین کے انتخابات کو صاف و شفاف بنانے،امیدواروں کی اہلیت کا تعین کرنے، اور تعلیمی ماحول کو خراب ہونے سے بچانے کے طریقوں کی سفارش کرے گی۔ یونیورسٹیوں کے انتخابات میں اکثر پرتشدد واقعات ہوتے ہیں اور کئی بار تو قتل تک کی وارداتیں ہو جاتی ہیں۔ انتخابی سرگرمیوں کے درمیان کیمپس اور اطراف میں زبردست کشیدگی کا ماحول بن جاتا ہے۔ امریکہ کی یہ امیر یونیورسٹیاں امریکہ میں صرف لوگ ہی ارب پتی نہیں ہوتے۔ یونیورسٹیاں بھی ارب پتی ہوتی ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک رپورٹ جاری ہوئی ہے جس کے مطابق ہارورڈ یونیورسٹی کو ٹرسٹ، امداد اور بینکوں سے ہونے والی آمدنی تقریبا چھبیس ارب ڈالر ہے جو شام، سری لنکا، اور سوڈان جیسے ممالک کی مجموعی پیداوار سے زیادہ ہے۔ ییل، سٹین فورڈ، ٹیکساس سسٹم اور پرسنٹن بھی ارب پتی یونیورسٹیاں ہیں۔
اس کے برعکس ہندوستان میں آئی آئی ٹی اور جے این یو جیسی یونیورسٹیوں کو چھوڑ کر باقی سبھی تعلیمی ادارے فنڈز کے لیے ہمیشہ پریشان رہتے ہیں۔ امریکہ کے برعکس ہندوستان میں یونیورسٹیوں کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے۔ امریکہ میں تعلیمی اداروں میں ملک کے امیروں، سرمایہ کاروں اور مذہبی اداروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے جبکہ ہندوستان میں صنعت اور بڑے بڑے صنعتی گھرانوں کا اس طرح کی خدمات میں عموماً کوئی کردار نہیں ہے۔ لالو کی گایوں کو نوٹس پٹنہ ہائی کورٹ نے گزشتہ جمعہ کو لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کو نوٹس بھیج کر یہ دریافت کیا ہے کہ کیا انہوں نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر پچاسوں گائیں رکھی ہیں اور وہ انکا دودھ فروحت کررہے ہیں۔ بہار کے ان دونوں رہنماؤں نے انتخابات میں شکست کے بعد بھی وزیر اعلٰی کا بنگلہ نہیں چھوڑا ہے۔ ایک مقامی سیاسی رہنما نے عدالت میں مفاد عامہ کی ایک عذرداری داخل کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں رہنماؤں نے اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصّہ دودھ کی فروخت سے دکھایا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ کہ اگر یہ دودھ وزیر اعلٰی کے بنگلے سے فروخت ہورہا ہے تو یہ قانون کی خلاف ورزی ہے کیونکہ سرکاری رہائش گاہ سے کوئی ذاتی تجارتی کام نہیں کیا جاسکتا ہے۔ | اسی بارے میں عدلیہ و پارلیمنٹ دلی میونسپلٹی اور بندر22 January, 2006 | انڈیا موت کے اسباب جاننے کیلیے سروے15 January, 2006 | انڈیا غیر محفوظ دِلی، تاج محل کےلیے ابٹن اور کار میں ٹی وی08 January, 2006 | انڈیا نیپکن کا تکیہ اور بھارتیوں کیلیے ویاگرا اور بالغ فلمیں 25 December, 2005 | انڈیا وزارتِ خارجہ پریشان، شاکی عوام، بنگالورو، دوگنے ارب پتی 18 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||