عدلیہ و پارلیمنٹ دلی میونسپلٹی اور بندر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی بادشاہ مہمان خصوصی دارالحکومت دلی میں 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی پریڈ کی تیاریاں زوروں پر ہيں۔ اس پریڈ میں ملک کی دفاعی قوت اور ثفافت کی نمائش کی جاتی ہے۔ اس موقع پر ایوان صدر یعنی راشٹر پتی بھون کے سامنے ایک بڑے پویلین سے ملک کے صدر مسلح افواج کے مختلف دستوں سے سلامی لیتے ہیں۔ اس بار یوم جمہوریہ کی تقریبا ت میں مہمان خصوصی سعودی عرب کے شاہ عبد اللہّ ہيں۔ شاہ کو مدعو کیے جانے پر بعض حلقوں میں نکتہ چینی کی گئی ہے۔ کئی ہندو تنظیموں نے تو یہ کہہ کر اعتراض کیا ہےکہ سعودی عرب میں مذہبی آزادی نہیں ہے۔ بعض حلقوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہاں کام کرنے والے ہندوستانیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا جا تا ہے جب کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ شاید عبد اللہ کو مہمان خصوصی بنا کر ہندوستان عرب مملک کو تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ اسرائیل نواز نہیں ہے اور اب بھی عرب ممالک سے اس کے گہرے تعلقات ہیں۔ عرب ممالک میں 35 لاکھ سے زیادہ ہندوستانی کام کرتے ہيں ۔ ان میں تقریبا نصف تعداد سعودی عرب میں ہے۔ عدلیہ اور پارلیمنٹ میں ٹکراو لوک سبھا نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب نہیں دے گی۔ مخصوص سوالات پوچھنے کے لیے رشوت لینے کے اسکینڈل ميں جن گیارہ ارکان کو پارلمینٹ سے نکالا گیا ہے۔ ان میں سے بعض کی درخواست پر سپریم کورٹ نے لوک سبھا کے اسپیکر کو یہ نوٹس دیا ہے۔ ایک کُل جماعتی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گيا کہ معاملہ پارلیمنٹ کے اندر کا ہے اس کا عدلیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسپیکر سومناتھ چیٹرجی نے کہا کہ ’میں بڑے احترام کے ساتھ یہ نوٹس لوٹا دوں گا‘۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اپنے اختیارات ہیں اور عدلیہ کے اپنے۔ دونوں کو ہي اپنے اختیار سے تجاوز نہیں کرنا چاہتا ہے لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نوٹس پر اصرار کرتا رہا اور بات آگے بڑھی تو مقننہ اور عدلیہ میں ٹکراؤ لازمی ہے۔
میونسپلٹی کی مصیبت ان دنوں دلی کے میونسپل کارپوریشن پر مصیبت آئی ہوئی ہے۔ پہلے تو ہائی کورٹ نے غیر قانونی تعمیرات ختم کرنے میں غفلت کے لیے میونسپل ادارے کو تحلیل کرنے کی دھمکی دی اور کہا کہ وہ ان سیاسی رہنماؤں کی فہرست پیش کرے جن کے غیرن قانونی تعمیرات کو منہدم کیا گیا ہے۔ اب ایک دوسری عدالت نے میونسپلٹی کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے شہر کے بندروں کو پکڑ کر باہر نہیں کیا تو وہ اسے تحلیل کر نے کا حکم دے دے گی۔ ویسے تو پورے شہر میں بندروں نے تباہی مچا رکھی ہے اور کئی افراد نے تو ان بندروں کو دور رکھنے کے لیے کئی کئی ہزار روپے مہینے کے کرائے پر لنگور کر رکھے ہیں جنہیں دیکھ کر یہ بندر بھاگ جاتے ہيں۔ عدالت کی ناراضگی اس وقت سامنے آئی جب یہ بندر شہر کے مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے عدالت کے احاطے تک پہنچ گئے اور وہاں بھگدڑ مچا دی۔ صدر کی پوجا کے بعد مندر بند سری لنکا کے صدر مہندا راج پکشے نے حال میں کیرالہ کے مشہور گریور مندر میں پوجا کی۔ کولمبو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق انہوں نے اس پوجا میں غلطی کر دی۔ مندر میں صرف ہندوؤں کے داخلے کی اجازت ہے۔ صدر تو بدھ مت کے پیروکار ہیں لیکن چونکہ گوتم بدھ کو ہندو دیوتا ہی مانا جاتا ہے اس لیے بدھسٹ بھی اس مندر میں جا سکتے ہیں لیکن راج پکشے اپنی اہلیہ کے ساتھ مندر میں گئے جو عیسائی ہيں۔ اطلاعات کے مطابق مندر کو دوبارہ پاک کرنے کے لیے اسے تین ہفتے تک بند رکھا جائے گا اور اس دوران خصوصی پوجا بھی کی جائے گی اور اسے مقدس پانی سے بار بار دھویا جائے گا۔ |
اسی بارے میں وزارتِ خارجہ پریشان، شاکی عوام، بنگالورو، دوگنے ارب پتی 18 December, 2005 | انڈیا پارلیمنٹ بم افواہ، سولہ مسلمان گرفتار17 December, 2005 | انڈیا بھارتی پارلیمان میں سکیورٹی الرٹ16 December, 2005 | انڈیا پارلیمان میں سکیورٹی الرٹ16 December, 2005 | انڈیا بھارت میں انسانی حقوق پر تشویش13 December, 2005 | انڈیا اڈوانی کی مشکلات،امیتابھ کا اوپرا11 December, 2005 | انڈیا ابدی سکون کا باغ 30 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||