ابدی سکون کا باغ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ہمارے پیارے لوچو تمہار ی بے لوث محبت ہمیں اکثر یاد آتی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ روح فنا نہیں ہوتی وہ ابدی ہے جسے کوئی بھی ہتھیار ختم نہیں کرسکتا۔ ہوا اسے خشک کر سکتی ہے نا پانی اس پراثر انداز ہو سکتا ہے۔ممی پاپا اکتوبر دوہزار تین۔‘ ہندو مذہب کی مقدس کتاب گیتا کا یہ اشلوک کسی مندر کی دیوار یا فلسفیانہ کتاب کی جلد پر نہیں بلکہ ایک کتے کی قبر پر لکھا کتبہ ہے۔ دلی کے مضافات میں رجوکری نامی گاؤں میں کتوں کا ایک قبرستان ہے۔ ’ گارڈن آف ایٹرنل پیس‘ یعنی ابدی سکون کا باغ کے نام سے مشہور اس قبرستان میں لوگ اپنے کتوں کی میّتوں کو تمام رسم و رواج کے ساتھ دفناتے ہیں ۔ انکی برسی پر قبروں کی زیارت کرتے ہیں اور انکے لیے دعائیں بھی کرتے ہیں۔ گارڈن میں مجھے وجیا گھوش ملی جو اپنے کتے کے مزار پر پھول چڑھانے آئی تھیں۔ بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ کتّوں سے وہ بہت پیار کرتی ہیں۔ ’میں چاہتی تھی کہ جانوروں کے دفنانے کی ایک خاص جگہ ہو تاکہ میں اپنے کتے کی آخری رسوم صحیح ھریقے سے ادا کروں۔ یہ جگہ پر سکون ہے اور میرے پیارے پالتوکو یہیں سکون مل سکتا تھا اسی لیے میں نے اسکا انتخاب کیا ہے۔‘ آج کل کتاپالناجہاں ایک فیشن ہے وہیں بہت سے لوگ دیوانگی کی حد تک انہیں چاہتے بھی ہیں۔ ایسے ہی ایک شخص مہیش گپتا نے بتایا کہ انہوں نے اپنا پہلا کتا اپنے گھر کے آنگن میں دفنایا تھا لیکن دوسرے کتّے کی موت پر انہیں کتوں کے قبرستان کی سہولت میسرہوگئی۔ انہوں نے بتایا کہ ’ گارڈن آف ایٹرنل پیس انسانوں کے قبرستان کے مانند پر سکون ہے۔ میں نے وہاں اپنا کتا دفنایا اور ایک درخت بھی لگایا ہے۔ سب سے اچھی چیز یہ ہے کہ جب چاہیں اسکی زیارت کر سکتے ہیں مزار پر پھول چڑھا سکتے ہیں۔ ایسا مقام شاید کسی دوسری جگہ کہیں نا ہو۔‘ گارڈن آف ایٹرنل پیس میں جانوروں کا ایک چھوٹا سا ہسپتال بھی ہے ۔ ڈاکٹر ونود شرماجانوروں کا علاج کرتے ہیں اوروہی اس قبرستان کی دیکھ بھال بھی کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’ دلی میں لوگوں کے رہنے کے لیے ہی جگہ کم ہے۔ مردہ جانورتو ادھر ادھر پھینک دی جاتے ہیں۔ لیکن ہم چاہتے تھے کہ وہ بھی باقاعدہ دفنائے جائیں تاکہ انکا جسد خاکی سکون سے رہے۔ لوگ ہمارے پاس آتے ہیں وہ ہماری مدد کرتے ہیں اور ہم ان کی۔‘
ڈاکٹر شرما کے مطابق جانور سماج کا ایک حصہ ہیں اور ان کے ساتھ بھی انسانوں جیسا سلوک ہونا چاہیے۔ عام طور پر کتوں کےمالک اپنی مرضی کے مطابق قبر پر پتھر کا کتبہ لگا تے ہیں۔ پیڑ اگاتے ہیں اور انکی برسی پر زیارت کرتے ہیں۔ پچھلی کئی دہائیوں میں دلی شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تعمیر کے لیے آئے دن زمینوں پر قبضے ہوتے رہتے ہیں۔ حال یہ ہے کہ قبرستانوں کو بچانے کے لیے حکومت نے ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔یہاں انسان کو ایک قبر کے لیے لاکھوں روپے ادا کرنے ہوتے ہیں۔لیکن کتوں کا یہ مفت قبرستان ہرا بھرا محفوظ ہے۔ چہچہاتے پرندوں ، لہلہاتے پیڑ پودوں اور تازہ ہوا کے جھونکوں سے یہاں ایسا خوشگوار ماحول ہے کہ جیسے کوئی چمن ہو۔ ان مزاروں پر تازہ پھولوں کی چادریں اور پیار بھرے کتبوں کو دیکھ کر انسان بھی رشک کرے۔ | اسی بارے میں فرانس کےوی آئی پی کتے03 September, 2003 | صفحۂ اول مسئلہ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کا07 September, 2003 | آس پاس بِل دو یا کُتا03 October, 2003 | نیٹ سائنس کتوں کا گیس ماسک28.12.2002 | صفحۂ اول پاکستان کے آن لائن قبرستان16 December, 2003 | پاکستان پشاور کی’ کتا منڈی‘20 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||