| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے آن لائن قبرستان
اکثرایسا ہوتا ہے کہ آپ اپنے کسی عزیز کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے قبرستان جاتے ہیں اور راستے میں کسی اور معروف شخصیت کی قبر آپ کا راستہ روک لیتی ہے۔ ’اچھا تو یہ شخص بھی یہیں دفن ہیں‘ ۔ آپ حیران ہوتے ہیں اور اس قبر پر فاتحہ پڑھ کر آگے چل پڑتے ہیں۔ اردو میں پچھلے دس، بارہ سال سے ایسی کتابوں کا چلن عام ہو رہا ہے جس میں مختلف شہروں میں مدفون شخصیات کے احوال، ان کی جائے تدفین اور ان کی قبروں پر لگے ہوئے کتبوں کو یکجا کیا گیا ہے۔ گو اس کام کا آغاز جنوبی ایشیا کی تقسیم سے پہلے ڈھاکہ سے ہوا تھا جب 1946 میں آسودگان ڈھاکہ اشاعت پذیر ہوئی تھی۔ مگر 1990 کی دہائی میں اس نوعیت کی کتابیں تواتر سے چھپیں جن میں خفتگان کراچی، خفتگان خاک لاہور، الواح الضادید (جس میں دہلی کے مشاہیر کی قبروں کا احوال درج ہے)، خفتگان خاک گجرات اور ابھی حال ہے میں شائع ہونے والی کتاب ’لاہور میں مشاہیر کے مدفون‘ شامل ہیں۔ اب اس سلسلے میں ابلاغ کے جدید ترین ذریعےانٹرنیٹ تک آ پہنچا ہے۔ چند برس پیشتر کراچی کے ایک قبرستان ’وادئ حسین‘ کی ویب سائٹ سے اس سلسلے کا آغاز ہوا۔ وادئ حسین نامی اس ویب سائٹ پر اس قبرستان میں آسودہ خاک تمام افراد کے متعلق معلومات جمع کر دی گئی ہیں اور آپ گھر بیٹھے اس قبرستان میں دفن ہونے والے اپنے کسی عزیز کی قبر کو نہ صرف دیکھ سکتے ہیں بلکہ اس پر فاتحہ خوانی بھی کر سکتے ہیں۔ اب حال ہی میں اسلام آباد کے مرکزی قبرستان کی ’جو اس شہر کا سب سے بڑا قبرستان بھی ہے‘ ویب سائٹ بھی منظر عام پر آ گئی ہے۔ آپ اس قبرستان میں آسودہ خاک ہونے والوں کا احوال حسب ذیل لنک کو کلک کر کے دیکھ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اگر دنیا کا نہیں تو ایشیا کا واحد شہر ضرور ہے جہاں دفن ہونے والے تمام افراد کی قبروں کا احوال انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ خضر عزیز صاحب نے سردست اپنی اس ویب سائٹ میں سن دو ہزار سےسن دو ہزار تین تک کے دوران اس قبرستان میں دفن ہونے والے ساڑھے تین ہزار افراد کے کوائف اکھٹے کئےہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اس قبرستان میں پینتیس ہزار قبریں ہیں جن کے کوائف وہ آہستہ آہستہ انٹرنیٹ پر منتقل کر رہے ہیں۔ خضر عزیز نے اس ویب سائٹ میں اپنی زندگی میں قبر بک کروانے، بعد ازمرگ قبر بک کروانے، غسل میت، نمازہ جنازہ اورتدفین کی دیگر رسومات کو بھی اکھٹا کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کے اس مرکزی قبرستان میں جو مشاہیر آسودہ خاک ہیں ان میں جوش ملیح آبادی، ممتاز مفتی، الطاف گوہر، مولانا کوثر نیازی، ممتاز شریں، پروین شاکر اور صدیق سالک جیسے اکابر شامل ہیں۔ چوکھٹے قبر کے خالی ہیں انہیں مت بھولو جانے کب کونسی تصویر لگا دی جائے |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||