| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ کوہ ہمالیہ کے دامن میں
سیاحوں سے بھرے اس مصروف شہر میں چھ انٹرنیٹ کیفے شاید دنیا کے سب سے اونچے مقام پر بنائے گئے کیفے نہ ہوں لیکن یہ یقیناً ہمالیہ میں سب سے زیادہ مصروف ترین ضرور ہیں۔ اس وقت شام کے چھ بجے ہیں اور 3450 میٹر بلند اس مقام پر ہلکی اور جما دینے والی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے۔ ویانا کے رہنے والے ولفگینگ اُرز نامچے سائبر کیفے میں ویانا میں رہنے والے اپنے دوستوں کو ای میل کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں پچھلے چھ مہینے سے سفر کر رہا ہوں۔ میرے خاندان کو میرے بارے میں تشویش ہے۔‘ کیفے کے منیجر سمن لاما نے انہیں وہاں موجود واحد خالی ٹرمینل پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ سیاحت کی صنعت سے وابستہ جوان نیپالی شیرپا اور مغربی کوہ پیما سب ہی ای میل بھیجنے میں مشغول ہیں۔ کیفے کے منیجر سمن تو اس وقت ایم ایس این چیٹ لائن کھولے بیٹھے ہیں۔ ولفگینگ کو کرسی پر بٹھانے اور انہیں انٹرنیٹ کا کنکشن لگا کر دینے کے بعد سمن واپس اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے اور بھارت میں رہنے والے ایک نیپالی رہائشی گوپال سے بات چیت شروع کر دی۔
’چیٹ رومز میں لوگ واقعی اس وقت حیرت زدہ ہو جاتے ہیں جب میں انہیں بتاتا ہوں کہ میں ماؤنٹ ایورسٹ کے سائے میں واقعہ قصبے نامچے سے بات کر رہا ہوں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’بہت سے تو یہ نہیں جانتے کہ یہ قصبہ کہاں واقع ہے اور وہ برف اور برفانی انسان نما جانور یٹی کے متعلق پوچھتے ہیں یا یہ پوچھتے ہیں کہ کیا سر ایڈمنڈ ہلری یہاں رہتے ہیں۔ اس جگہ کے متعلق مغرب کے لوگ نیپالیوں سے کئی زیادہ جانتے ہیں۔‘ نامچے بازار میں ذرا نیچے چیرنگ گیالٹسن اپنا چار ٹرمینلوں والا کیفے بند کر رہے ہیں۔ انہیں اگلے دن صبح صبح اپنا کیفے کھولنا ہے۔ کیونکہ نامچے بازار سے 700 میٹر دور ایک گاؤں سے چار بچے کمپیوٹر سیکھنے آ رہے ہیں۔ بچوں کو کمپیوٹر کی تعلیم دینا چیرنگ کی کمپنی، لِنکنگ ایورسٹ، کا ایک بنیادی مقصد ہے۔ ان کی کمپنی نامچے کے زیادہ تر کیفیز کو سیٹیلائٹ لنک بھی مہیا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ کلاسیں کئی ماہ سے شروع کیے ہوئے ہیں۔ ’لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سکولوں سے کنکٹ ہوں نہ کہ بچے یہاں تعلیم حاصل کرنے آئیں۔‘ ان کا پلان ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کے پہلو میں تیرہ دیہات کو وائرلیس ٹیلی فون کے لِنک کے ذریعے لوکلا ہوائی اڈے سے جوڑ دیا جائے۔ یہاں سے علاقے کا رابطہ کٹھمنڈو سے ہوتا ہے۔ دنیا کے سب سے دشوار گزار راستے جن میں زیادہ تر 3000 میٹر بلند ہیں سب سے زیادہ اونچائی والا سکول 4000 میٹر بلند ہو گا اور چیرنگ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ انہیں کس قسم کے چیلنج کا سامنا ہے۔ لیکن ان میں ایک اعتماد ہے اور انہیں اس بات کا تجربہ بھی ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی دشوار گزار راستوں کو شکست پر فتح پاتی ہے۔
’ہم نے اس سال ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ میں ایک انٹرنیٹ کیفے بنایا ہے۔ وہ ایک بڑی کامیابی تھی جس میں ہمیں متعدد بار لگا کہ ہم یہ کام نہیں کر پائیں گے۔ اگر ہم وہ کر سکتے ہیں تو پھر ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔‘ ایورسٹ انٹرنیٹ کیفے دنیا کا سب سے بلند کیفے ہے۔ وہ 5400 میٹر کی بلندی پر سال میں چھ ماہ کھلا رہتا ہے۔ جیسے جیسے رات ڈھلتی جا رہی ہے نامچے بازار میں بتیاں بند ہوتی جا رہی ہیں اور تھکے ہوئے کوہ پیما اپنے اپنے ہوٹلوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ لیکن ان میں سے بھی کچھ نامچے سائبر کیفے کا رخ کر رہے ہیں جو چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے۔ سمن اپنے سامنے میز پر کافی کا ایک کپ رکھے ہوئے ابھی تک چیٹ میں مصروف ہیں۔ ’نامچے ماؤنٹ ایورسٹ پر نہیں ہے اور ہم یاک کی کھال نہیں پہنتے۔ آپ یہاں آئیں اور اپنی آنکھوں سے خود ہی دیکھ لیں۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||