| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ویب پر متناسب موجودگی‘
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے انٹرنیٹ اور دوسری انفارمیشن تکنیکوں پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویب پر موجود مواد میں زبانوں کی نمائندگی متناسب ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت انگریزی میں آنے والی سائٹس کی بھر مار ہے اور تقریباً ستر فی صد مواد انگریزی میں ہے۔ پچاس ملکوں کے سربراہ اور ڈیڑھ سو ملکوں کے دس ہزار مندوب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مستقبل اور محرومیوں پر غور کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنیوا میں جاری اس تین روزہ کانفرنس میں شریک ہیں جو بارہ دسمبر تک جاری رہے گی۔ اس معاملے پر ہونے والی اقوامِ متحدہ کی یہ پہلی کانفرنس ہے اور اس میں سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے علاوہ دنیا میں ورلڈ وائڈ ویب کو ایجاد کرنے اور تجربہ گاہ سے نکال کر لوگوں کے سامنے لانے والے ٹم برنرس لی بھی اپنی ایجاد کے روبرو تھے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس موقعہ پر دنیا بھر کے اسّی سکولوں کو ایک ای میل بھیجی جس کا متن یہ تھا’مجھے امید ہے کہ ہم سب ویب کو اس مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں دنیا کے دوسرے حصوں میں آباد لوگ بھی ہم ہی سے ہیں اس کے باوجود کہ وہ مختلف زبانیں بولتے ہیں اور مختلف صلاحیتیں رکھتے ہیں۔‘ اس پیغام میں مذید کہا گیا تھا کہ ’جب آپ ویب کے بارے میں تعلیم حاصل کر رہے ہوں گے تو ہو سکتا ہے کہ آپ کمپیوٹر کے استعمال کو سیکھنے کے بارے اپنے ان اساتذہ سے کہیں زیادہ تیز ہوں جو آپ کو کمپیٹر کے بارے میں سکھا رہے ہوں۔‘ ٹم برنرس لی نے اس موقعہ پر کہا کہ ’جب میں نے ویب ایجاد کی تو میں نے صرف ایک پروگرام لکھا اور یہ پروگرام ان مختلف چیزوں کو جمع کرنے پر مبنی تھا جنہیں دوسروں نے پہلے سے کیا ہوا تھا۔‘
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کوفی عنان نے کہ ٹیکنالوجی کی اسں طاقت کو ان لوگوں کی مندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جو زندگی کی سہوتوں کے حصول میں بہت سے دوسرے لوگوں سے پیچھے ہیں۔ عالمی سربراہ کانفرنس برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عنوان سے ہونے والی اس کانفرنس کا مقصد انٹر نیٹ اور دوسری تکنیکوں کو دنیا بھر میں فروغ دینا ہے۔ لیکن ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کانفرنس کا انعقاد بھی اس معاملے کو طے کر پائے گا کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ انٹرنیٹ کو کون چلائے گا اور کون اس سے مالی مفاد حاصل کرے گا۔ اس کانفرنس کا ایک اور دلچسپ پہلو کانفرنس میں زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کی موجودگی ہے کیونکہ ان کی نقل و حرکت پر سویٹزر لینڈ، امریکہ اور یورپی یونین نے پابندی لگا رکھی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||