BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ان چاہی ای میلز پر تاریخی فیصلہ
ان چاہے پیغامات
ان چاہے پیغامات روکنے کے لیے قانون سخت ہو گا

کمپیوٹر پر ان چاہے ای۔میل پیغامات کی ترسیل کے خلاف امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے عدالت نے ایک مارکیٹنگ کمپنی کو بیس لاکھ ڈالر جرمانہ کیا ہے کیونکہ یہ کمپنی لوگوں کو لاکھوں ان چاہے ای میل پیغامات بھیج رہی تھی جن میں ان چاہے پیغامات بھیجنے کا طریقہ درج تھا۔

ریاست کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل بِل لوکیئر نے لاس اینجلس کی، پی۔ڈبلیو مارکیٹنگ کمپنی اور اس کے مالکان پال ویلیس اور کلاڈیا گریفن کے خلاف سن دو ہزار دو میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ یہ مقدمہ ان چاہے پیغامات کے خلاف انیس سو اٹھانوے میں وضع کردہ قانون کے تحت دائر کیا گیا تھا۔

ان چاہی ای۔پیل
تقریباً نصف ای۔میل پیغامات ان چاہے ہوتے ہیں

گزشتہ ماہ اس قانون کو مزید سخت کر دیا گیا تھا تا کہ ان چاہے ای۔میل پیغامات بھیجنے والے اداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے اقدام کو آسان بنایا جا سکے۔

پی۔ڈبلیو مارکیٹنگ، پال ویلیس اور کلاڈیا گریفن پر الزام تھا کہ انہوں نے لوگوں کو لاکھوں ای۔میل پیغامت بھیجے جن میں انتالیس ڈالر کے عوض قابلِ خرید ایک گائیڈ کی تشہیر کی گئی تھی جس میں لوگوں کو زبردستی پیغامات بھیجنے کا طریقہ درج تھا۔ اس کے علاوہ ان ای۔میل پیغامات میں کیلیفورنیا کے رہائشیوں کے ای۔میل پتوں کی فہرستیں بھی ارسال کی گئی تھیں۔

استغاثہ کا موقف تھا کہ پی۔ڈبلیو مارکیٹنگ نے انیس سو اٹھانوے میں وضع کردہ قانون کی خلاف ورزی کی تھی کیونکہ زبردستی بھیجے گئے ان پیغامات میں وہ نمبر درج نہیں تھا جس پر فون کر کے صارفین ایسے ان چاہے پیغامات کی ترسیل رکوا سکتے تھے۔ اس کے علاوہ پی۔ڈبلیو مارکیٹنگ نے قانونی تقاضا پورا نہ کرتے ہوئے وہ پتہ بھی درج نہیں کیا تھا جہاں صارفین اپنا جوابی پیغام بھیج سکیں۔

ان چاہے پیغامات دردِ سر
ان چاہے پیغامات دردِ سر بن گئے ہیں

ریاست کے اٹارنی جنرل بِل لوکیئر نے یہ بھی کہا کہ مارکیٹنگ کمپنی کے مالکان نے غیر قانونی طور پر لوگوں کے کمپیوٹروں سے اس طرح رابطہ قائم کیا کہ کمپنی انہیں پیغامات بھیج سکے لیکن پیغامات بھیجنے والوں کا پتہ نہ چلایا جا سکے۔

بِل لوکیئر کا کہنا کہ اس ضمن میں عدالت کا حالیہ فیصلہ مستقبل کے مقدمات کے لیے ایک ماڈل کی شکل میں سامنے آئے گا۔

اس عدالتی فیصلے کے باعث پال ویلیس اور کلاڈیا گریفن دس برس تک انٹرنیٹ پر کاروبار کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔

یکم جنوری کے بعد ان چاہے پیغامات کے خلاف قانون کو مزید سخت کر دیا جائے گا جس کے تحت کوئی بھی شخص ان چاہے پیغامات بھیجنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکے گا اور وہ ایک ہزار ڈالر تک ہرجانہ وصول کرنے کا مجاز قرار پائے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد