پشاور کی’ کتا منڈی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کتا انسان کا وفادار دوست سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کئی لوگوں کے لیے کتا پیسے کمانے کا ذریعہ بھی ہے۔ یہی بیوپاری صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں کتوں کی ہفتہ وار منڈی گزشتہ کئی برسوں سے لگا رہے ہیں۔ شاہی باغ کے نزدیک سڑک کنارے کتوں کا شور سنا تو گمان ہوا کہ شاید ان کی لڑائی کروائی جا رہی ہے لیکن قریب آیا تو معلوم ہوا کہ یہ کتوں کا میدانِ جنگ نہیں بلکہ ان کی منڈی ہے جو ہفتے میں دو مرتبہ جمعے اور اتوار کے روز کئی برسوں سے باقاعدگی سے لگ رہی ہے۔ بڑی تعداد میں کتوں کے بیوپاری یہاں جمع ہیں اور اونچی آواز میں کاروبار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کتوں کا مسلسل بھونکنا اور ٹریفک کا شور عجیب سا سماں پیدا کر دیتا ہے۔ جرمن شیپرڈ، رشین پپیز، پوائنٹر، شکاری اور لڑاکو غرض ہر قسم اور ہر عمر کا کتا دو سے پانچ ہزار روپے میں یہاں دستیاب ہے۔ گلیوں سے پکڑے جانے والے آوارہ کتے نہلادھلا کر اور اچھی نسل کے کتے چوری کرکے بھی لائے جاتے ہیں۔ ان کو لانے کا طریقہ بھی جدا جدا ہے۔ بڑے کتے بندھے ہوئے جبکہ چھوٹے کچھ بوریوں میں اور چند لکڑی کے کریٹ میں بھی لائے جاتے ہیں۔ اس منڈی میں پچھلے پندرہ برسوں سے کتوں کی خریدو فروخت کرنے والے سراج نے منڈی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ منڈی تو کافی پرانی ہے لیکن اس کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس نے شکایت کی کہ پولیس موبائل کبھی کبھی انہیں تنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے اس مقصد کے لئے ضلعی حکومت سے ضروری سہولتوں اور تحفظ کے ساتھ ایک مخصوص مقام کا تعین کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ سراج نے بتایا کہ السیشن اور پوائنٹر کتوں کی مانگ ذیادہ ہوتی ہے۔ اس نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ چوری اور دو نمبر کتے بھی فروخت کے لئے لائے جاتے ہیں لیکن وہ اپنے رنگ و عادات سے با آسانی پہچانے جاتے ہیں اور فروخت نہیں ہوتے ہیں۔ ایک دس سالہ بچہ نوید بھی دو سفید خوبصورت روسی پپیز لیے خریدار کا انتظار کرتا نظر آیا۔ اس نے بتایا کہ وہ بھی کسی سے خرید کر انہیں لایا ہے اور جوڑی کا دو ہزار روپے مانگ رہا ہے۔
اس کی ہی عمر کا ایک دوسرا بچہ ایک کتے کو رسی سے گھسیٹتا نظر آیا۔ کتے کی شکل اور رنگ سے صاف معلوم رہا تھا کہ اسے زبردستی السیشن بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک شخص بڑا کتا فروخت کے لئے لایا ہوا تھا۔ فرہاد علی نے بتایا کہ گھر کی مالی حالت اچھی نہیں اس لئے اسے فروخت کرنے کے لیے لایا ہوں۔ اس نے کہا گھریلو پالا ہوا کتا ہے اس لئے وہ اس کے پانچ ہزار روپے مانگ رہا ہے لیکن تین ساڑھے تین ہزار تک فروخت کر دے گا۔ خریداروں میں محمد نصیر بھی تھے جو چوکیداری کی غرض سے کتے کی تلاش میں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ذیادہ رقم خرچ کرنے کے موڈ میں نہیں لیکن اگر اچھا کتا ہزار بارہ سو روپے تک ملتا ہے تو وہ خرید لیں گے۔ کتے یا تو لوگ شوق کی وجہ سے یا حفاظت کے نظریے سے پالتے ہیں۔ یہی دو وجوہات ضرورت مندوں کو یہاں کھینچ لاتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||