طوطا بھونکتا ہے، کتا صاحب ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا کتے، طوطے، بکرے اور انسان میں کوئی مماثلت ہے۔ آسان جواب ہے کہ سب بولتے ہیں۔ مگر اپنی اپنی بولیاں۔ شائد کبھی کبھار یہ بولیاں آپس میں گڈ مڈ بھی ہو جاتی ہوں اور انسان میں میں کرتا ہو شائد ’بھونکتا‘ بھی ہو یا پھر خود ہی بکرا، مرغا یا طوطا بن جاتا ہو لیکن کبھی بھی کسی نے کسی طوطے کو بھونکتے ہوئے نہیں سنا ہو گا۔ میں نے سنا ہے۔ اس کی تفصیل ذرا بعد میں۔ پہلے کچھ میری بولی سن لیں۔ گزشتہ دنوں یوں لگتا تھا جیسے ہر چیز کچھ عرصہ کے لیےجانور بن گئی تھی۔ سڑک سڑک گلی گلی بکرے، موبائل فون پر خوبصورت بکرے کے مقابلے کے پیغامات اور جیتنے والے کو ایک لاکھ روپے انعام کی نوید، اخباروں اور جرائد میں برڈ فلو اور کیبل ٹی وی چینل پر شہر کی مقبول تکہ شاپس کے اشتہارات جس میں فضلِ حق عرف پھجا سری پائے کا اشتہار سرِ فہرست ہےآ اس اشتہار میں لاہور کے ناظم میاں عامر محمود کو پھجے کی دوکان پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
مطلب یہ کہ ان دنوں انسان اور جانور آپس میں کچھ اس طرح گھل مل گئے کہ انہیں ایک دوسرے سے جدا کرنا کچھ ناممکن سا لگتا تھا۔ سب سے پہلے عید کے ایام میں بکرے اور انسان ایک ہو گئے۔ ہر طرف لوگ بکروں پر جھکے ہوئے ان کے منہ میں ہاتھ ڈال ڈال کر انہیں ہنسانے کی کوشش کرتے نظر آئے اور جب وہ بکرے کو ہنسا چکے ہوتے تو پھر ایک دوسرے کی طرف فاتحانہ انداز سے دیکھ کر اس کے دام لگاتے۔ اسی طرح مرغے بھی پیچھے نہ رہے۔ گو کہ برڈ فلو کی وجہ سے چند ایک نے ان سے ہاتھ کھینچ لیا تھا لیکن اس پاک دھرتی کے تنو مند جوانوں کی ایک بڑی تعداد کو بھلا کوئی برڈ کیسے ڈرا سکتا ہے۔ لوگوں نے اس کے بھی طریقے نکال لیے۔ قصائی نے کہا ’صاحب اب میں چھری دھو کر ذبح کرتا ہوں‘ اور ایک نانی نے ٹوٹکا نکالا کہ ’مرغی میں زیادہ لہسن ڈال دو سب فلو مر جائے گا‘۔ سب مر گیا۔ بس نقصان ہوا تو بیچارے ان شادی والوں کا جن کا آدھے سے زیادہ مرغ مہمانوں کے منہ سے بچ گیا اور انہیں اگلے چند روز صبح شام مرغ قورمے پر ہی گزارا کرنا پڑا۔ لیکن ان کے ساتھ ساتھ ایک اور اشتہار بھی آیا کہ راجگڑھ کے رہائشی کسی صاحب کا بولنے والا ’را طوطا‘ کھو گیا ہے اور جو بھی اسے ڈھونڈ کر لائے گا اسے 2500 روپے انعام دیا جائے گا۔ میرے دوست اشعر نے مجھے بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ راجگڑھ سے را طوطے کے لاپتہ ہونے کا اشتہار آیا ہے اس سے پہلے بھی یہ آچکا ہے بلکہ اس پہ انہوں نے ایک مضمون بھی لکھ دیا تھا کہ ’تمہیں را طوطے کی پڑی ہوئی ہے۔ راجگڑھ سے تو پتہ نہیں کون کون سے ’سپیشی‘ غائب ہو گئی‘۔ ان کا اشارہ میری اور میرے جیسے چند اور راجگڑھ سے اڑنے والے دوستوں کی طرف تھا۔ لیکن پھر بھی پاکستان میں ’میں میں، ٹیں ٹیں، اور بھونکنے کی آوازیں پیچھا نہیں چھوڑتی۔ آپکو اکثر لگتا ہے کہ ہر کوئی میں میں کر رہا ہے اور صرف آپ بھونک رہے ہیں۔ اسکے کے الٹ بہت کم ہی ہوتا ہے۔ ذرا خوشحال علاقوں میں چلے جائے تو ہر کوئی ٹیں ٹیں کرتا اور ایک مرتبہ پھر آپ بھونکتے ہوئے ہی نظر آتے ہیں۔ (برائے مہربانی بھونکنے کا کوئی غلط مطلب نہ لیجیئے۔ اسے ویسے ہی ہمیشہ سے بدنام کیا جا رہا ہے۔) بھونکنے سے وہ واقعہ بھی سن لیں جسکا اشارہ میں نے اوپر دیا ہے۔ گزشتہ دنوں مجھے سمندری جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں امریکہ میں بسنے والے سب سے امیر پاکستانی کا گھر ہے۔ خیر وہاں میں ایک گھر میں گیا جو کہ چڑیا گھر کے کافی قریب تھا۔ کہنے کا مطلب ہے کہ وہاں بھینسوں اور بکروں کے علاوہ مور، کبوتر، کتے، بلیاں، مرغیاں اور طوطے بھی دکھائی دیے۔ اور یہ سب کوئی عام جانور نہیں تھے۔ مثلاً کتے کہ متعلق پتہ چلا کہ اس کی قیمت سوزوکی کی مہران کار سے دوگنی ہے، یعنی کہ چھ سات لاکھ، اسی طرح طوطا اور مور بھی تھے۔ خیر جو بات انہونی تھی وہ یہ تھی کہ طوطا بالکل بلٹیریئر کتے کی طرح بھونکتا تھا۔ جب بھی وہ کسی بلی یا انجان فرد کو دیکھتا تو بھونکنا شروع کر دیتا۔ گھر والوں نے بتایا کہ جب کتے اپنے واڑوں میں بندھے ہوتے ہیں تو یہ طوطا گھر کی بڑی حفاظت کرتا ہے۔ بعد میں صاحب صاحب کی سدا بلند ہوئی۔ میں بھی احتراماً اٹھ کھڑا ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد صاحب آئے تو لیکن چار ٹانگوں پر چل کر۔ صاحب ان کے دیو ہیقل کتے کا نام تھا جس کے اپنے بھی دو ملازم تھے۔ صاحب صاحب ہے۔ میری آج کی بولی بس اتنی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||