| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسئلہ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کا
برازیل کے شہر ریو ڈی جینرو میں منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں ایک اہم مسئلے پر تفصیلی بحث ہوئی اور وہ مسئلہ یہ تھا کہ دنیا بھر میں کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے انسان کو ممکنہ خطرات کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔ اور بحث اور مباحثے کے بعد اس کانفرنس کے شرکاء اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دنیا میں کتوں کے، لوگوں اور خاص طور پر بچوں کو، کاٹنے کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے۔ اس تین روزہ کانفرنس کا اہتمام جانورں کی حفاظت کے لیے قائم کی گئی ورلڈ سوسائٹی فار پروٹیکشن آف اینیملز، عالمی ادارۂ صحت اور پین امریکن ہیلتھ آرگنازیشن نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ اس کانفرنس میں کتوں کے مالکان کے لیے مرتب کی گئی سفارشات کو چند دنوں میں جاری کر دیا جائے گا۔ یہ کانفرنس تھی تو کتوں کے بارے میں لیکن کتوں کے لیے کوئی انعام نہیں رکھا گیا تھا۔ کتوں کے کاٹے سے پھیلنے والی متعدی بیماری ریبیز یا باؤلا پن اب کوئی خطرہ نہیں ہے اور لاطینی امریکہ سے اسے مکمل طور پر ختم کیا جا چکا ہے۔ لیکن انسانوں پر کتوں کے حملوں کے واقعات ایک دردِ سر بنتے جارہے ہیں۔ پیرو میں سلانہ اسی ہزار لوگ کتوں کے کاٹے کا شکار ہوتے ہیں۔ برازیل میں ہر سال اس طرح کے کئی لاکھوں واقعات ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت بچوں کی ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں کتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس وقت ایک اندازے کے مطابق دنیا میں ساٹھ کروڑ کتے ہیں جن کی تعداد اگلے دس سال میں دگنی ہوجائے گی۔ تاہم کانفرنس نے اس بات نے کتوں کی بجائے کتوں کے مالکان کی تربیت پر زور دیا۔ کانفرنس کے مطابق کتے پالنے والوں کو اپنے کتوں کے رویے کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے اور اگر وہ کسی شخص کو کاٹ لیتے ہیں تو اس کا معاوضہ بھی انھیں ادا کرنا چاہیے۔ جنوبی امریکہ کے چھوٹے سے ملک کوسٹا ریکا نے اس سلسلے میں ایک مثال قائم کی ہے۔ کوسٹا ریکا کے قانون کے مطابق اگرکوئی کتا کسی شخص کو کاٹ لیتا ہے تو ملک کو قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |