BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 December, 2005, 11:52 GMT 16:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پارلیمنٹ بم افواہ، سولہ مسلمان گرفتار

دسمبر دو ہزار ایک میں پارلیمان پر حملے میں پانچ شدت پسندوں سمیت چودہ افراد ہلاک ہوئےتھے
ہندوستان کی پارلیمان میں بم کی افواہ پھیلانے والوں کی شدت سےتلاش جاری ہے۔ اس سلسلے میں جنوبی ریاست تامل ناڈو میں سولہ مسلم نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

جمعہ کے روز اجلاس کے دوران ایک جھوٹی خبر ملی تھی کہ پارلیمنٹ میں بم رکھا ہے جس کے سبب پارلیمنٹ کو فوری طور پر خالی کروا لیا گیا تھا۔

تامل ناڈو کے ایک سینئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ جس انٹرنیٹ کیفے سے بم کی افواہ اڑائی گئی تھی اس کے مالک سے کہا گیا ہے کہ وہ گرفتار شدہ سولہ میں سے اس شخص کی پہچان کرے جو اس کے کیفے اکثر آتا جاتا رہا ہو یا جمعہ کے روز انٹر نیٹ استعمال کے لیے آیا ہو۔

گرفتار کیے گئے تمام افراد کا تعلق ترونویلی شہرسے ہے ۔ ترونیلی کے ہی انٹر نیٹ کیفے سے جمعہ کے روز امریکی سفارت خانے کو ایک ای میل بھیجا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پارلیمنٹ میں بم رکھا ہے۔

اس میل کے موصول ہوتے ہی امریکی سفارت خانے فوری طور پر اسکی اطلاع مرکزی حکومت کو دی تھی۔خبر آتے ہی پارلیمنٹ میں سکیورٹی الرٹ کا اعلان کردیا گیا تھا۔

بم کی افواہ پھیلانے والوں کا مطالبہ
 ای میل میں کرنے والوں کا مطالبہ کیا تھا کہ ہندوستان امریکہ سے اپنے تعلق ختم کرلے۔اس میں اسامہ بن لادن کی تعریف بھی کی گئی تھی۔
مذکورہ ای میل میں بم کی خبر کے علاوہ صرف تین سطروں میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ ہندوستان امریکہ سے اپنے تعلق ختم کرلے۔ اس میں اسامہ بن لادن کی تعریف بھی کی گئی تھی۔

پتہ چلا ہے کہ میل ترونیلی کے مضافاتی علاقے سے بھیجا گیا ہے۔ حکام کے لیے یہ بات اور تشویش ناک ہے کیونکہ چند برس قبل تک یہ علاقہ اسلامی شدت پسندوں کا گڑھ مانا جاتا تھا۔

یہ خبر ضلعی انتظامیہ کے لیے بھی پریشان کن ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ’ ممکن ہے یہ کسی کی شرارت ہو۔ لیکن یہ بات تو بڑی تشویشس ناک ہے کہ کہیں شدت پسندوں کا وہ گروپ ازسر نو اپنے آپ کو منظم تو نہیں کرہا ہے۔ جو بھی کچھ ہو ہم اس کی تہہ تک جائیں گے تاکہ حقیقت کا پتہ چل سکے‘۔

اس طرح کی بھی قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ سائبر کیفے کے مالک نے چند ماہ قبل ایک دوسرے کیفے سے علیحدہ ہوکر اپنا نیا کیفے کھولا ہے اور ممکن ہے کہ دونوں کی آپس کی رقابت ہو۔اس لیے مالک کو بدنام کرنے کیفے کا غلط استعمال کیا گیا ہو۔ پولیس ان تمام پہلوؤں کی تفتیش کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
موت کی سزا: پولیس درخواست
05 September, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد